Thursday, 10 September 2020

ساتھ چھوٹے گا کیسے مرا آپ کا

گیت

ساتھ چھُوٹے گا کیسے مرا آپ کا
جب مرا دل ہی گھر بن گیا آپ کا
ساتھ چھوٹے گا کیسے مرا آپ کا

آپ آۓ بڑی عمر ہے آپ کی
بس ابھی نام میں نے لیا آپ کا
جب مرا دل ہی گھر بن گیا آپ کا
ساتھ چھوٹے گا کیسے مرا آپ کا

ڈر ہے مجھ کو نہ بدنام کر دیں کہیں
اس طرح پیار سے دیکھنا آپ کا
جب مرا دل ہی گھر بن گیا آپ کا
ساتھ چھوٹے گا کیسے مرا آپ کا

آپ کی اک نظر کر گئی کیا اثر
میرا دل تھا میرا ہو گیا آپ کا
جب مرا دل ہی گھر بن گیا آپ کا
ساتھ چھوٹے گا کیسے مرا آپ کا

پیام سعیدی

No comments:

Post a Comment