گیت
ساتھ چھُوٹے گا کیسے مرا آپ کا
جب مرا دل ہی گھر بن گیا آپ کا
ساتھ چھوٹے گا کیسے مرا آپ کا
آپ آۓ بڑی عمر ہے آپ کی
بس ابھی نام میں نے لیا آپ کا
جب مرا دل ہی گھر بن گیا آپ کا
ڈر ہے مجھ کو نہ بدنام کر دیں کہیں
اس طرح پیار سے دیکھنا آپ کا
جب مرا دل ہی گھر بن گیا آپ کا
ساتھ چھوٹے گا کیسے مرا آپ کا
آپ کی اک نظر کر گئی کیا اثر
میرا دل تھا میرا ہو گیا آپ کا
جب مرا دل ہی گھر بن گیا آپ کا
ساتھ چھوٹے گا کیسے مرا آپ کا
پیام سعیدی
No comments:
Post a Comment