گیت
زلفوں میں رنگ اودھ کا ہے
اور صبح بنارس چہرہ ہے
کشمیر کا تجھ میں حسن بھرا
پنجاب کا آنکھوں میں ہے نشہ
تیری ادا ادا رنگین ہے
تُو چیز بڑی نمکین ہے
لکھنو کی نزاکت ہے تجھ میں
دہلی کی شرارت ہے تجھ میں
ہریانے کا تجھ میں اکھڑ پن
مہاراشٹر کا تجھ میں الہڑ پن
انگڑائی بہار کی تجھ میں ہے
جے پور کی مستی تجھ میں ہے
میسور کا چندن تیرا بدن
گجرات کا تجھ میں بھولا پن
تجھ میں جادو بنگال کا ہے
لہجہ یہ تیرا بھوپال کا ہے
نیناں تیرے نینی تال لگے
تُو ہندوستانی مال لگے
تیرے سارے چاہنے والوں میں
کھیتوں میں اور چوپالوں میں
تیرے روپ کی باجے بین ہے
تُو چیز بڑی نمکین ہے
تُو چلے تو بجلی لہراۓ
تُو رکے تو دھڑکن رک جاۓ
تُو ہنسے تو کلیاں پھیکی پڑیں
تُو بات کرے تو پھول جھڑیں
جب نہا کے بال تُو بکھراۓ
بادل کو پسینہ آ جاۓ
انگڑائی جو تُو لے ہو کے مگن
تو تاج محل سا لگے بدن
تیری زلفوں میں یہ دل اسیر ہے
تو عاشق کی تقدیر ہے
جب سے تجھے دیکھا بستی میں
ڈوبا ہوں میں تیری مستی میں
ہے تیرے ملن کی پیاس مجھے
کیوں اس کا نہیں احساس تجھے
تیرا جانی بڑا شوقین ہے
تو چیز بڑی نمکین ہے
تیری ادا ادا رنگین ہے
تُو چیز بڑی نمکین ہے
پیام سعیدی
No comments:
Post a Comment