بیٹھ جاتا ہوں جہاں چھاؤں گھنی ہوتی ہے
ہائے، کیا چیز غریب الوطنی ہوتی ہے
نہیں مرتے ہیں تو ایذا نہیں جھیلی جاتی
اور مرتے ہیں تو پیماں شکنی ہوتی ہے
دن کو اک نور برستا ہے مِری تُربت پہ
زندہ درگور ہم ایسے جو ہیں مرنے والے
جیتے جی ان کے گلے میں کفنی ہوتی ہے
لٹ گیا وہ تِرے کوچے میں رکھا جس نے قدم
اس طرح کی بھی کہیں راہ زنی ہوتی ہے
ہوک اٹھتی ہے اگر ضبط فغاں کرتا ہے
سانس رکتی ہے تو برچھی کی انی ہوتی ہے
پی لو دو گھونٹ کہ ساقی کی رہے بات حفیظؔ
صاف انکار میں خاطر شکنی ہوتی ہے
حفیظ جونپوری
No comments:
Post a Comment