Monday, 21 February 2022

اندھیری رات میں جلتا دیا صحافت ہے

 اندھیری رات میں جلتا دیا صحافت ہے

جھلستے صحرا میں ٹھنڈی ہوا صحافت ہے

سنی سنائی پہ جو بھی یقین رکھتا ہے

وہ خود صحافی نہ اس کا لکھا صحافت ہے

قلم کی نوک سے پگڑی اچھالنے والو

سنو یہ غور سے یہ بے حیا صحافت ہے

وہ جن کی بات کہیں بھی سنی نہیں جاتی

انہی کے واسطے اک آسرا صحافت ہے

ازل سے زرد صحافت خزاں کی ہے مظہر

خزاں رسیدہ صحافت بھی کیا صحافت ہے

صحافی جان کو جوکھوں میں ڈال دیتا ہے

کسے خبر کہ اذیت نما صحافت ہے

وہ جس میں دیکھ کے طارق سنور سکے دنیا

ہر ایک عہد میں وہ آئینہ صحافت ہے


طارق ملک

No comments:

Post a Comment