Monday, 21 February 2022

تم نہ مانو حضور دیتی ہے

 تم نہ مانو حضور دیتی ہے

شاعری اک شعور دیتی ہے

عشق وہ مے ہے جو کہ انساں کو

زندگی کا سرور دیتی ہے

پھول کی پتی چاہے ٹوٹی ہو

پھر بھی خوشبو ضرور دیتی ہے

بادشاہوں سے دور رہتا ہوں

بادشاہی غرور دیتی ہے

وہ مسیحائی خوب تر ہے جو

اندھی آنکھوں کو نور دیتی ہے

اس محبت کا کیا کہیں طارق

جو سزا بے قصور دیتی ہے


طارق ملک

No comments:

Post a Comment