مِرے بدن کو لمس کا خمار تھا، وہ مر گیا
مجھے کبھی کسی کے ساتھ پیار تھا وہ مر گیا
ہمارے دن خراب آنے سے ذرا سا پہلے جو
ہمارا سب سے بہترین یار تھا، وہ مر گیا
سنو ہمارے پاس ہم بچے ہوئے ہیں آج کل
ہمارے پاس اس کا جاں نثار تھا، وہ مر گیا
یہیں تجھے ہم آج آئینہ دکھا کے جائیں گے
ہمارے دل میں جو تِرا وقار تھا، وہ مر گیا
یہاں غریبی کفر تک گئی تو خود کشی ہوئی
جو شخص صابرین میں شمار تھا وہ مر گیا
ادھر ذرا سی بات پہ تو روٹھ کر چلی گئی
ادھر مِرا جو تجھ پہ اختیار تھا، وہ مر گیا
تمہارا ہجر خود پہ جبر کر کے سہ لیا گیا
تمہاری کال کا جو انتظار تھا، وہ مر گیا
آکف صدیقی
No comments:
Post a Comment