عشق کے اس خمار سے پہلے
غم کہاں تھا بہار سے پہلے
جان جوکھوں میں ڈال رکھی تھی
ذات پر اختیار سے پہلے
ایک وحشت جہاں پہ طاری تھی
اس دلِ بے قرار سے پہلے
ہم کو اپنا بھی اعتبار نہ تھا
آپ پر اعتبار سے پہلے
اک وجودِ سمن بھی ہوتا تھا
آپ کے انتظار سے پہلے
رخسانہ سمن
No comments:
Post a Comment