Monday, 21 February 2022

عشق کے اس خمار سے پہلے

 عشق کے اس خمار سے پہلے

غم کہاں تھا بہار سے پہلے

جان جوکھوں میں ڈال رکھی تھی

ذات پر اختیار سے پہلے

ایک وحشت جہاں پہ طاری تھی

اس دلِ بے قرار سے پہلے

ہم کو اپنا بھی اعتبار نہ تھا

آپ پر اعتبار سے پہلے

اک وجودِ سمن بھی ہوتا تھا

آپ کے انتظار سے پہلے


رخسانہ سمن

No comments:

Post a Comment