Sunday, 19 September 2021

گیسوئے یار کو چہرے پہ بکھرتا دیکھا

 گیسوئے یار کو چہرے پہ بکھرتا دیکھا

معجزہ دیکھیۓ دن رات کو یکجا دیکھا

یوں شب ہجر میں ان کو بھی تڑپتا دیکھا

بسترِ مرگ پہ گویا کہ مسیحا دیکھا

خود کو بھی حسن کا دیوانہ سمجھ بیٹھا ہے

اس پری چہرہ کا واعظ نے جو شیشہ دیکھا

کشمکش قطرۂ آنسو کی تِری پلکوں پر

ہم نے گرتے ہوئے تارے کو لرزتا دیکھا

پھر وہی یاد گزشتہ، وہی الجھن، وہی غم

دل کو ان بادہ و ساغر سے بھی بہلا دیکھا


مجید میمن

No comments:

Post a Comment