وہ آسماں کی طرح ہے نہ کہکشاں کی طرح
وہ ایک گل ہے جو لگتا ہے گلستاں کی طرح
یہاں میں جان بلب تھا وہاں وہ حال مِرا
سنا رہا تھا مسیحا کو داستاں کی طرح
ہوا ہے یوں بھی کہ اکثر قرارِ جاں میرا
نظر بھی آیا ہے مجھ کو عدوئے جاں کی طرح
چلا تھا عمر بھر جو ساتھ آج اس نے ہی
اڑا دیا ہے مجھے گردِ کارواں کی طرح
دِکھا رہا ہے مِرا عکس آئینہ اس ڈھب
کبھی یقین کی صورت کبھی گماں کی طرح
سمجھ ہی بیٹھتا اس کو میں لایقِ مسجود
زباں نہ اپنی چلاتا اگر سناں کی طرح
زمانے بھر میں تو چرچےہیں ساز کے لیکن
خود اپنے شہر میں رہتا ہے بے نشاں طرح
ساز دہلوی
No comments:
Post a Comment