سینے میں پھر مچلتے ہیں جذبات کچھ تو ہے
پھر سے دل دھڑکنے لگا، بات کچھ تو ہے
الجھے ہوئے ہیں اک عجب کشمکش میں ہم
کیوں اٹھ رہے ہیں اتنے سوالات کچھ تو ہے
جو کہہ رہا تھا؛ صرف میں تیرا غلام ہوں
گِنوا رہا ہے اپنے مفادات، کچھ تو ہے
ہر سجدے میں دعا ہے؛ تمہیں بھول جاؤں میں
اب تک ہیں رائیگاں میرے سجدات کچھ تو ہے
کیا پھر سے راستہ کوئی سورج بھٹک گیا؟
ٹھہری ہوئی ہے دیر سے یہ رات کچھ تو ہے
جس کو نہ میں نے دیکھا نہ جس سے ملی ہوں میں
بھیجی ہے اس نے پیار کی سوغات کچھ تو ہے
وہ اجنبی کہ جس کو ولاء جانتی نہیں
بھاتی ہیں دل کو اس کی حکایات، کچھ تو ہے
ولاء جمال العسیلی
No comments:
Post a Comment