Friday, 11 June 2021

کم یا زیادہ آب و دانہ سب چلتا ہے

 کم یا زیادہ، آب و دانہ سب چلتا ہے

باغ ہو کوئی یا ویرانہ سب چلتا ہے

جاناں جیون کھیل بچھڑنے اور ملنے کا 

جاناں میں نے تجھ سے کہا نا سب چلتا ہے 

ایک پہاڑی رستے کا در پیش سفر ہو 

گیت، کہانی یا افسانہ سب چلتا ہے

اپنے اپنے دائرے میں ہم بیٹھے ہوئے ہیں

عرض مِری، تیرا فرمانا سب چلتا ہے

ایک گلی میں ایک سے لوگ نہیں رہتے ہیں

ٹوٹ در، اونچا کاشانہ سب چلتا ہے

یہ کیا بات اصولوں کی تم لے بیٹھے ہو

دیکھو پیارے! اندر خانہ سب چلتا ہے

عشق کا ریشم ہی سارا الجھا ہو تو

کیا کھڈی، کیا تانا بانا سب چلتا ہے


قیوم طاہر

No comments:

Post a Comment