Friday, 11 June 2021

جب اپنی سوچ کی وسعت سے خوف آنے لگا

 جب اپنی سوچ کی وسعت سے خوف آنے لگا

میں کاغذوں پہ فقط دائرے بنانے لگا

زمانے بیت گئے جس کو یاد کرتے ہوئے

اب اس کی یاد بھلانے میں بھی زمانے لگا

میں کوئی قیس یا فرہاد تو نہیں پھر بھی

تو آج شب اسی جنگل میں شامیانے لگا

یہ اس کی اپنی محبت تھی تجھ کو علم نہیں

کہ آئینہ بھی جو تجھ سے فریب کھانے لگا

ہم ایسے لوگ ہمارا کوئی ٹھکانہ نہیں

ہمارا خون بہا اور ہمیں ٹھکانے لگا

وہ آدمی تھا سو دل میں سوال رکھتا تھا

بہشت میں بھی اسے وسوسہ ستانے لگا

تمہارے لمس کا سوچا تو میرے چاروں طرف

ہوا کا لمس کوئی گیت گنگنانے لگا

کلام کس سے کرے ہے یہ خود کلامی مِری

یہ کون آج مِرے دل میں مسکرانے لگا

مجھے تو صرف محبت بحال کرنا تھی

اسی لیے میں اداسی گلے لگانے لگا

کسی نے ہاتھ ہلائے، کسی نے سیٹی دی

کوئی سڑک پہ کھڑا تالیاں بجانے لگا


عادل کہاوڑ

No comments:

Post a Comment