جب اپنی سوچ کی وسعت سے خوف آنے لگا
میں کاغذوں پہ فقط دائرے بنانے لگا
زمانے بیت گئے جس کو یاد کرتے ہوئے
اب اس کی یاد بھلانے میں بھی زمانے لگا
میں کوئی قیس یا فرہاد تو نہیں پھر بھی
تو آج شب اسی جنگل میں شامیانے لگا
یہ اس کی اپنی محبت تھی تجھ کو علم نہیں
کہ آئینہ بھی جو تجھ سے فریب کھانے لگا
ہم ایسے لوگ ہمارا کوئی ٹھکانہ نہیں
ہمارا خون بہا اور ہمیں ٹھکانے لگا
وہ آدمی تھا سو دل میں سوال رکھتا تھا
بہشت میں بھی اسے وسوسہ ستانے لگا
تمہارے لمس کا سوچا تو میرے چاروں طرف
ہوا کا لمس کوئی گیت گنگنانے لگا
کلام کس سے کرے ہے یہ خود کلامی مِری
یہ کون آج مِرے دل میں مسکرانے لگا
مجھے تو صرف محبت بحال کرنا تھی
اسی لیے میں اداسی گلے لگانے لگا
کسی نے ہاتھ ہلائے، کسی نے سیٹی دی
کوئی سڑک پہ کھڑا تالیاں بجانے لگا
عادل کہاوڑ
No comments:
Post a Comment