شجر کو کاٹا نہیں ہے رقبہ گھٹا لیا ہے
خموش رہ کر وہ ایک رشتہ بچا لیا ہے
مجھے گزرنا پڑے گا پنجوں کے بل یہاں سے
غلیظ رستہ ہے، پائنچوں کو اٹھا لیا ہے
خود اپنی تہہ داریوں سے کھائی ہے مات میں نے
میں وہ ہوں جس نے نمو کا موسم گنوا لیا ہے
تمہیں بھی بالکل تمہارے جیسے سے ہو محبت
یہ بد دعا ہے کہ جس کو تم نے دعا لیا ہے
وہ کتنا شاطر ہے جس نے دونوں طرف نباہی
تجھے بھی رکھا، مجھے بھی اپنا بنا لیا ہے
عجیب نمکین ذائقہ ہو رہا ہے منہ کا
کسی کے رونے کا آج میں نے مزا لیا ہے
اکھڑتا خیمہ سنبھل گیا تھا پر اب جلے گا
تھمی ہے آندھی تو کچھ چراغوں نے آ لیا ہے
خاور اسد
No comments:
Post a Comment