عارفانہ کلام نعتیہ کلام
آنکھوں نے شہرِ نور کے منظر لیے سمیٹ
جا کر مدینے پاک میں گوہر لیے سمیٹ
دربارِ مصطفیٰﷺ کی ہے ہر چیز بے مثال
پلکوں نے شہرِ یار کے کنکر لیے سمیٹ
قطرہ ملا جو ساقئ کوثر کے جام کا
سب مے کشوں نے اپنے ہی ساغر لیے سمیٹ
آئے گا پھر بلاوہ مجھے طیبہ سے ضرور
اس آس پر امید نے بستر لیے سمیٹ
اس در کو چھوڑ کر بھلا جاؤں میں اب کہاں
دن زندگی کے تھے جو وہ اکثر لیے سمیٹ
ہم تو کھڑے ہیں روضۂ اطہر کے سامنے
کشتی کے ناخدا نے تو لنگر لیے سمیٹ
اے زار لکھ چمکتی سی اک اور نعتِ شاہ
شاعر نے شاعری کے تو دفتر لیے سمیٹ
عدنان حسن زار
No comments:
Post a Comment