Tuesday, 16 August 2022

یہی ایک بیمار کی ہے دعا مدینے بلا لیجیے

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


یہی ایک بیمار کی ہے دعا، مدینے بلا لیجیے

کہیں مر نہ جائے غلام آپؐ کا مدینے بلا لیجیے

ہوں بیمارِ غم کوئی چارا نہیں ہے

طبیبوں کا بھی اب سہارا نہیں ہے

ہزاروں مرض کی یہی ہے دوا، مدینے بلا لیجیے

زباں پر ہے کعبہ، ہے دل میں مدینہ

حوالے سمندر کے ٹوٹا سفینہ

چلا ہے یہی کہتے؛ یا مصطفیٰﷺ، مدینے بلا لیجیے


راہی بستوی

No comments:

Post a Comment