عارفانہ کلام نعتیہ کلام
یہی ایک بیمار کی ہے دعا، مدینے بلا لیجیے
کہیں مر نہ جائے غلام آپؐ کا مدینے بلا لیجیے
ہوں بیمارِ غم کوئی چارا نہیں ہے
طبیبوں کا بھی اب سہارا نہیں ہے
ہزاروں مرض کی یہی ہے دوا، مدینے بلا لیجیے
زباں پر ہے کعبہ، ہے دل میں مدینہ
حوالے سمندر کے ٹوٹا سفینہ
چلا ہے یہی کہتے؛ یا مصطفیٰﷺ، مدینے بلا لیجیے
راہی بستوی
No comments:
Post a Comment