عجیب یہ جہان ہے، عجیب یہ حیات ہے
نہ آج تک سمجھ سکے جو رازِ کائنات ہے
لُٹی لُٹی سی آس ہے، گُھٹی گُھٹی سے آرزُو
وہی ہیں بے قراریاں، وہی سیاہ رات ہے
تِرے حسیں خیال میں گُزار دی ہے زندگی
جو پا سکے نہ ہم اگر تجھے تو اور بات ہے
عجیب یہ جہان ہے، عجیب یہ حیات ہے
نہ آج تک سمجھ سکے جو رازِ کائنات ہے
لُٹی لُٹی سی آس ہے، گُھٹی گُھٹی سے آرزُو
وہی ہیں بے قراریاں، وہی سیاہ رات ہے
تِرے حسیں خیال میں گُزار دی ہے زندگی
جو پا سکے نہ ہم اگر تجھے تو اور بات ہے
نظر چراتا ہے یوں بھی کچھ آسماں مجھ سے
میں دو جہان سے واقف ہوں دو جہاں مجھ سے
وفورِ درد کے پاتال تک میں جب پہنچا
فلک نے کھینچ لیا تب مِرا نشاں مجھ سے
عجیب ہے یہ تعلق کہ دور رہ کر بھی
یہاں میں اُس سے الجھتا ہوں وہ وہاں مجھ سے
کبھی کبھی تِری چاہت پہ یہ گُماں گُزرا
کہ جیسے سر سے ستاروں کا سائباں گزرا
چراغ ایسے جلا کر بُجھا گیا کوئی
تمام دِید کا عالم دُھواں دُھواں گزرا
جنونِ شوق میں سجدوں کی آبرُو بھی گئی
مجھے خبر نہ ہوئی کب وہ آستاں گزرا
مِرے سامنے جو صلِیب ہے
وہ صلیب میرا نصیب ہے
جسے زندگی کی طلب نہیں
وہی زندگی کے قریب ہے
اسے غم ملیں یا ملے خوشی
یہ تو آدمی کا نصیب ہے
دیدۂ اشکبار نے مارا
آہِ بے اختیار نے مارا
دے دِلا کر فریبِ رنگ و بُو
ایک جانِ بہار نے مارا
خُلد کی حُسن کاریاں توبہ
رُوئے رنگینِ یار نے مارا
عادتاً مایُوس اب تو شام ہے
ہِجر تو بس مُفت ہی بدنام ہے
آج پھر دُھندلا گیا میرا خیال
آج پھر الفاظ میں کُہرام ہے
الگنی پر ٹانگ کر دن کا لباس
رات کو اب چین ہے آرام ہے
شکست کھا کے تیرے غم سے کامیاب ہوا
دل اس مقام پہ ڈوبا کہ آفتاب ہوا💗
سکون شوق مبدل بہ اضطراب ہوا
کسی نے پردہ کیا اور میں بے نقاب ہوا
تِری نظر ہی تو محفل کی جان ہے ساقی
نگاہ تُو نے اٹھائی کہ انقلاب ہوا