Saturday, 17 October 2026

ہاتھ ملتا ہے تو مل اب کے برس

 ہاتھ ملتا ہے تو مل اب کے برس

پھُول کلیاں نہ مسل اب کے برس

برفزاروں میں نہ جل اب کے برس

التجا کرتا ہے دل اب کے برس

تُو اٹل ہے، وہ مصمّم ہے بہت

دیکھ لے اور کے بل اب کے برس

ارباب کرم سے بدلا ہے دستور غم ایام کہاں

 اربابِ کرم سے بدلا ہے دستورِ غمِ ایّام کہاں

اس دور جہانِ ہستی میں انسان کو ہے آرام کہاں

دُنیا ہے جفاؤں کی شیدا، دُنیا کو وفا سے کام کہاں

اے حُسنِ وفا کے دِیوانے! لیتا ہے وفا کا نام کہاں

رہبر نظر آتے ہیں رہزن تاریک دل اور ماتھے پہ شکن

پُوچھو نہ حقیقت کچھ اپنی غُربت میں ہوئی ہے شام کہاں

جل کر ان آنکھوں میں آنسو جب کاجل بن جاتے ہیں

 جل کر ان آنکھوں میں آنسو جب کاجل بن جاتے ہیں 

دل سے اٹھ کر ریگ بگولے دل بادل بن جاتے ہیں 

کوئی سچی بات زباں پر جب بھی کبھی آ جاتی ہے 

وہ صحرا ہو یا گُلشن ہو سب مقتل بن جاتے ہیں 

جب بھی ذہن میں جاگ اُٹھتی ہے ان ہونٹوں کی شیرینی 

کیسے کیسے تلخ مسائل جان غزل بن جاتے ہیں 

Friday, 16 October 2026

زمیں پہ کیسا ہے قحط الرجال اف اللہ

 زمیں پہ کیسا ہے قحط الرّجال اُف اللہ

وفا کا اور جنوں کا زوال اُف اللہ

جو آدمی کا ہے اس وقت حال اُف اللہ

وفا کا اور جنوں کا زوال اُف اللہ

ترقی خوب ہوئی بے مثال اُف اللہ

مگر جو دیکھا ہے گاؤں کا حال اُف اللہ

رلا کے ہم کو چلا جانا ہے کہاں تنہا

 کہاں سے آنا ہے ہر آدمی یہاں تنہا

رُلا کے ہم کو چلا جانا ہے کہاں تنہا

یزیدِ عصر نے گھیرا ہے یوں مجھے جیسے

مقابلے میں ہو اک تیرے بے کماں تنہا

لگے ہیں خیمے وہیں آج کاروانوں کے

گیا تھا شہر میں تھک کر جہاں جہاں تنہا

دل نثار مصطفیٰ جاں پائمال مصطفیٰ

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


دل نثار مصطفیٰﷺ، جاں پائمال مصطفیٰﷺ

یہ اویس مصطفیٰﷺ ہے وہ بلال مصطفیٰﷺ

دونوں عالم تھے مِرے حرف دُعا میں غرق و محو

میں خُدا سے کر رہا تھا جب سوال مصطفیٰﷺ

سب سمجھتے ہیں اسے شمعِ شبستانِ حِرا

نُور ہے کونین کا لیکن جمالِ مصطفیٰﷺ

شکوے کی چبھن مجھ کو سدا اچھی لگی ہے

 شِکوے کی چُبھن مجھ کو سدا اچھی لگی ہے

یہ فرطِ محبت کی ادا اچھی لگی ہے

خالی ہے کہاں لُطف سے اب دل کا پِگھلنا

پُر درد زمانے کی فضا اچھی لگی ہے

لمحاتِ محبت سبھی یکساں نہیں ہوتے

اے جان وفا! تیری جفا اچھی لگی ہے