ہاتھ ملتا ہے تو مل اب کے برس
پھُول کلیاں نہ مسل اب کے برس
برفزاروں میں نہ جل اب کے برس
التجا کرتا ہے دل اب کے برس
تُو اٹل ہے، وہ مصمّم ہے بہت
دیکھ لے اور کے بل اب کے برس
ہاتھ ملتا ہے تو مل اب کے برس
پھُول کلیاں نہ مسل اب کے برس
برفزاروں میں نہ جل اب کے برس
التجا کرتا ہے دل اب کے برس
تُو اٹل ہے، وہ مصمّم ہے بہت
دیکھ لے اور کے بل اب کے برس
اربابِ کرم سے بدلا ہے دستورِ غمِ ایّام کہاں
اس دور جہانِ ہستی میں انسان کو ہے آرام کہاں
دُنیا ہے جفاؤں کی شیدا، دُنیا کو وفا سے کام کہاں
اے حُسنِ وفا کے دِیوانے! لیتا ہے وفا کا نام کہاں
رہبر نظر آتے ہیں رہزن تاریک دل اور ماتھے پہ شکن
پُوچھو نہ حقیقت کچھ اپنی غُربت میں ہوئی ہے شام کہاں
جل کر ان آنکھوں میں آنسو جب کاجل بن جاتے ہیں
دل سے اٹھ کر ریگ بگولے دل بادل بن جاتے ہیں
کوئی سچی بات زباں پر جب بھی کبھی آ جاتی ہے
وہ صحرا ہو یا گُلشن ہو سب مقتل بن جاتے ہیں
جب بھی ذہن میں جاگ اُٹھتی ہے ان ہونٹوں کی شیرینی
کیسے کیسے تلخ مسائل جان غزل بن جاتے ہیں
زمیں پہ کیسا ہے قحط الرّجال اُف اللہ
وفا کا اور جنوں کا زوال اُف اللہ
جو آدمی کا ہے اس وقت حال اُف اللہ
وفا کا اور جنوں کا زوال اُف اللہ
ترقی خوب ہوئی بے مثال اُف اللہ
مگر جو دیکھا ہے گاؤں کا حال اُف اللہ
کہاں سے آنا ہے ہر آدمی یہاں تنہا
رُلا کے ہم کو چلا جانا ہے کہاں تنہا
یزیدِ عصر نے گھیرا ہے یوں مجھے جیسے
مقابلے میں ہو اک تیرے بے کماں تنہا
لگے ہیں خیمے وہیں آج کاروانوں کے
گیا تھا شہر میں تھک کر جہاں جہاں تنہا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
دل نثار مصطفیٰﷺ، جاں پائمال مصطفیٰﷺ
یہ اویس مصطفیٰﷺ ہے وہ بلال مصطفیٰﷺ
دونوں عالم تھے مِرے حرف دُعا میں غرق و محو
میں خُدا سے کر رہا تھا جب سوال مصطفیٰﷺ
سب سمجھتے ہیں اسے شمعِ شبستانِ حِرا
نُور ہے کونین کا لیکن جمالِ مصطفیٰﷺ
شِکوے کی چُبھن مجھ کو سدا اچھی لگی ہے
یہ فرطِ محبت کی ادا اچھی لگی ہے
خالی ہے کہاں لُطف سے اب دل کا پِگھلنا
پُر درد زمانے کی فضا اچھی لگی ہے
لمحاتِ محبت سبھی یکساں نہیں ہوتے
اے جان وفا! تیری جفا اچھی لگی ہے