ادا شناس تو تھے جانِ جاں، بس آئے ہیں
تِری گلی سے فقط جسم واپس آئے ہیں
کس آئینے میں جہاں دِیدگاں کی دِیدن ہو
کثیر پیشِ نظر بیش تر پس آئے ہیں
ذرا سی رنجشِ بیجا کا کیا ہُوا مذکور
مخالفین بہ اندازِ کرگس آئے ہیں
ادا شناس تو تھے جانِ جاں، بس آئے ہیں
تِری گلی سے فقط جسم واپس آئے ہیں
کس آئینے میں جہاں دِیدگاں کی دِیدن ہو
کثیر پیشِ نظر بیش تر پس آئے ہیں
ذرا سی رنجشِ بیجا کا کیا ہُوا مذکور
مخالفین بہ اندازِ کرگس آئے ہیں
ہُو کے عالم میں بھی اک شور سُنائی دے گا
جو سماعت کو بہت میٹھا سُجھائی دے گا
حیف نفرت کے جزیروں میں بھٹکتے رہ کر
ایک انسان محبت کی دُہائی دے گا
ایک دن لوگ محبت سے شناسا ہوں گے
اور یہ ساز بہت دُور سنائی دے گا
قدموں سے اتنا دُور کنارہ کبھی نہ تھا
نا قابلِ عبُور یہ دریا کبھی نہ تھا
تم سا حسیں ان آنکھوں نے دیکھا کبھی نہ تھا
لیکن یہ سچ نہیں کوئی تم سا کبھی نہ تھا
ہے ذکر یار کیوں شبِ زِنداں سے دُور دُور
اے ہم نشیں! یہ طرز غزل کا کبھی نہ تھا
کس طرح وہ عالم کو نہ دیوانہ بنا دے
یہ حُسن، یہ انداز و ادا جس کو خُدا دے
دیکھی نہیں جاتی ہے کسی سے مِری حالت
اب وہ بھی یہ کہتے ہیں؛ خُدا اس کو شفا دے
پھر ہوش کے عالم میں بھلا آؤں میں کیونکر
غش میں مجھے دامن سے جو وہ اپنے ہوا دے
سب کو وہ خود نما سا لگتا ہے
اور مجھے دل جلا سا لگتا ہے
کتنا شکی مزاج ہے اس کا
کچھ ستایا ہوا سا لگتا ہے
وعدہ کرتا ہے قسمیں کھا کھا کے
وہ تو کچھ بے وفا سا لگتا ہے
غم یونہی وقت پر نہیں پہنچے
تم کسی وقت پر نہیں پہنچے
آپ سے تو بہت اُمیدیں تھیں
آپ ہی وقت پر نہیں پہنچے
اس کے پیچھے بھی اک کہانی ہے
ہم یونہی وقت پر نہیں پہنچے
جنہیں ہم نے آنکھوں میں رکھا چھُپا کر
وہ گُزرے ہیں پہلو سے آنکھیں چُرا کر
مِری زندگی میں جمُود آ گیا ہے
نئے حادثے کی کوئی ابتداء کر
غموں کے اندھیروں میں گُم ہو گیا ہے
دلوں میں چراغِ محبت جلا کر