سورج کے آس پاس
آشنائے رازِ دل کم ہیں بہت
ایک ہی ہم ہیں تو پھر ہم ہیں بہت
اشک، مژگاں، رات اور تاروں کا حُسن
جگمگاتے دیدۂ نم ہیں بہت
چند سیّاروں پہ کیا موقوف ہے
منتظر اس دل کے عالم ہیں بہت
سورج کے آس پاس
آشنائے رازِ دل کم ہیں بہت
ایک ہی ہم ہیں تو پھر ہم ہیں بہت
اشک، مژگاں، رات اور تاروں کا حُسن
جگمگاتے دیدۂ نم ہیں بہت
چند سیّاروں پہ کیا موقوف ہے
منتظر اس دل کے عالم ہیں بہت
دکھ درد، در و دیوار سبھی ایک ہوئے
غم کے میلے میں خریدار سبھی ایک ہوئے
ایک پنچھی کو رِہا کر کے یہ احساس ہوا
جیسے صحرا میں سزاوار سبھی ایک ہوئے
کیسے تسلیم کروں پھُول کی یکتا قیمت
تیری فُرقت کا سِتم، خار سبھی ایک ہوئے
روزِ اوّل سے یہی کرتا رہا ہے آدمی
سوچتا کم، اور زیادہ بولتا ہے آدمی
ہے یہ قاصر اپنے چہرے کو بدلنے سے مگر
آئینہ ہر زاویے سے دیکھتا ہے آدمی
کون سی منزل ہے اس کی اور جانا ہے کہاں
نِت نئے رستوں پہ چلتا جا رہا ہے آدمی
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
اے دنیا میں پیغامِ حق لانے والے
اے فخرِ دوعالم کہے جانے والے
مدد کو غلاموں کے آ جانے والے
وہ یاسین و طہ لقب پانے والے
جبل دشت و صحرا کو چمکانے والے
چمک تجھ سے پاتے ہیں سب پانے والے
گھروندہ
چلو آج پھر ریت پہ گھروندے بناتے ہیں
کچھ نئے خواب آنکھوں میں سجانے کو
گود میں اس وسِیع سمندر کی
آؤ سُورج اُترتا دیکھتے ہیں
کُچھ لالی لے کر شفق سے
لب و رُخسار تیرے سجاتے ہیں
ہمارے ہاتھ جو آتے نہیں ہیں
اگر آ جائیں تو جاتے نہیں ہیں
جنہیں ہم دیکھتے رہتے ہیں گھنٹوں
انہیں اک آنکھ بھی بھاتے نہیں ہیں
کسی دن دل میاں دو لخت ہوں گے
اگر آپ ان کو سمجھاتے نہیں ہیں
اسیرِ بے زباں
میں اپنے ہی تلاطم کا
اسیرِ بے زباں بن کر
کسی ایسے کنارے کی
مسلسل جستجو میں ہوں
جہاں دل کی جراحت پر
کوئی تہمت نہ دھرتا ہو