Wednesday, 13 May 2026

یہ رنگ و نور کی برسات چار سو کیا ہے

 یہ رنگ و نور کی برسات چار سُو کیا ہے

یہ تُو نہیں ہے تو پھر اور رُو برُو کیا ہے

تِرے سوا دلِ ناداں کی آرزو کیا ہے

جو مل گیا ہے مجھے تُو، تو جستجو کیا ہے

قریب جا کے جو دیکھا تو ہو گیا روشن

تِرے وجود میں شامل رفُو رفُو کیا ہے

اُداس کیوں نہ ہو رُوئے نگار دنیا کا

غموں کی بھیڑ میں خوشیوں کی آبرُو کیا ہے

یہ کون چاند کی صُورت چمک رہا ہے یہاں

شبِ فِراق کے چہرے پہ یہ لہُو کیا ہے

اندھیری رات ہے سایہ تو ہو نہیں سکتا

مِرے حضور میں جنت کے ہُوبہُو کیا ہے

قریب آ کے محبت سے ہم سخن ہو جا

تمام رات خیالوں میں گُفتگو کیا ہے

تِرے کرم کی ہیں ساری نشانیاں اسلم

وگرنہ جسم پہ یہ زخم بے رفُو کیا ہے


ڈاکٹر محمد اسلم پرویز

No comments:

Post a Comment