دیدۂ اشکبار نے مارا
آہِ بے اختیار نے مارا
دے دِلا کر فریبِ رنگ و بُو
ایک جانِ بہار نے مارا
خُلد کی حُسن کاریاں توبہ
رُوئے رنگینِ یار نے مارا
بہکی بہکی تِری نگاہیں ہیں
نشۂ خُوشگوار نے مارا
تیری زُلفِ دراز نے لُوٹا
چشمِ جادُو فگار نے مارا
رُوح کھنچ آئی ہے نگاہوں میں
آپ کے انتظار نے مارا
دل کو لُوٹا فریبِ جلوہ نے
چند نقش و نگار نے مارا
کیا ہے الزام تیری نظروں پر
فطرتِ غم شعار نے مارا
پنڈت شائق وارثی
No comments:
Post a Comment