Saturday, 16 May 2026

مرے سامنے جو صلیب ہے

 مِرے سامنے جو صلِیب ہے

وہ صلیب میرا نصیب ہے

جسے زندگی کی طلب نہیں

وہی زندگی کے قریب ہے

اسے غم ملیں یا ملے خوشی

یہ تو آدمی کا نصیب ہے

مِرا غم ہی میرا علاج ہے

مِرا درد میرا نصیب ہے

یہ کبھی کسی کا نہ ہو سکا

یہ زمانہ کتنا عجیب ہے


مسیح الدین شارق انصاری

No comments:

Post a Comment