Saturday, 16 May 2026

عجیب یہ جہان ہے عجیب یہ حیات ہے

 عجیب یہ جہان ہے، عجیب یہ حیات ہے

نہ آج تک سمجھ سکے جو رازِ کائنات ہے

لُٹی لُٹی سی آس ہے، گُھٹی گُھٹی سے آرزُو

وہی ہیں بے قراریاں، وہی سیاہ رات ہے

تِرے حسیں خیال میں گُزار دی ہے زندگی

جو پا سکے نہ ہم اگر تجھے تو اور بات ہے

یہ کون چاہتا نہیں کہ زندگی بہار ہو

مگر غمِ حیات سے بھلا کسے نجات ہے

نہیں ہے دُشمنوں سے کچھ گِلا مجھے مِرے ندیم

مِری تباہیوں میں میرے داستوں کا ہاتھ ہے


سیلانی سیوتے

No comments:

Post a Comment