نظر چراتا ہے یوں بھی کچھ آسماں مجھ سے
میں دو جہان سے واقف ہوں دو جہاں مجھ سے
وفورِ درد کے پاتال تک میں جب پہنچا
فلک نے کھینچ لیا تب مِرا نشاں مجھ سے
عجیب ہے یہ تعلق کہ دور رہ کر بھی
یہاں میں اُس سے الجھتا ہوں وہ وہاں مجھ سے
کئی برس سے لپٹ کر نہ رو سکا اس سے
کچھ اس لیے بھی خفا ہے مِرا مکاں مجھ سے
بچھڑتے وقت کی سب داستان پوچھتے ہیں
نہیں ہوئی یہ کہانی کبھی بیاں مجھ سے
میں جب کبھی تِری یادوں پہ تیر کھینچتا تھا
تو چھین لیتا تھا یکدم کوئی کماں مجھ سے
اُسے میں حشر میں اپنی حیات دے دوں گا
جو ہو گیا ہے محبت میں رائیگاں مجھ سے
سیف الرحمان ہادی
No comments:
Post a Comment