Sunday, 3 May 2026

کہتے ہیں اپنا حال کسی سے کہوں نہیں

 کہتے ہیں، اپنا حال کسی سے کہوں نہیں

یعنی کہ صرف درد سہوں، اُف کروں نہیں

ہے ان دنوں میں پیشِ نظر رقص کے لیے

وہ ساز جس میں کوئی بھی سوزِ دروں نہیں

تصویر توڑ دی تو تصوّر میں آ گئے

عہدِ فراق میں بھی کسی پل سکوں نہیں

برباد میں ہوا ہوں کسی اور خیال میں

مجھ پر کسی کے حُسن کا کوئی فسُوں نہیں

اُفتاد آ پڑی ہے ضیا گر تو کیا ہُوا؟

خوف و ہراس شیوۂ اہلِ جنُوں نہیں


طاہر ضیا

No comments:

Post a Comment