Friday, 1 May 2026

بلاوے بارہا آئے ہیں

 بُلاوے

بارہا آئے ہیں

آوازوں کے ساحل سے

مگر میں

یخ بستہ کشتی کی طرح

گُم سُم پڑا ہوں

سماعت کے سمندر میں


صفدر رضا کھنڈوی

No comments:

Post a Comment