Wednesday, 2 September 2026

جاہ و منصب ہے نہ اب حشمت سلطانی ہے

 جاہ و منصب ہے نہ اب حشمتِ سُلطانی ہے

اس تباہی کا سبب اپنی ہی نادانی ہے

آہ وہ لمحے کہ جو خوابِ گِراں میں گُزرے

جن کی تعبیر میں صدیوں کی پشیمانی ہے

ایک سنّاٹے کا احساس تھا وہ بھی نہ رہا

دل کی دُنیا میں عجب طرح کی وِیرانی ہے

کوئی لیلائے تمنّا کا پرستار نہیں

اب نہ سامانِ جنُوں ہے نہ بیابانی ہے

عکس در عکس کئی چہرے چُھپے ہیں مجھ میں

میرے آئینے میں حیرانی ہی حیرانی ہے

پھر اُٹھے گا کوئی طُوفانِ بلا خیز یہاں

پھر مِرے صبر کے پیمانے میں طُغیانی ہے


محمد نفیس تقی

No comments:

Post a Comment