میں پوچھتا ہی رہا شہرِ بے اماں کا پتہ
کوئی بتا نہ سکا تیرے آستاں کا پتہ
ہزاروں دوست نما لوگ ہمسفر تھے مگر
کسی کو اپنی خبر تھی نہ کارواں کا پتہ
خدا کرے نہ پڑے اس پہ بجلیوں کی نظر
ابھی ملا ہے مجھے میرے آشیاں کا پتہ
ہم ایسے اہلِ جنوں یوں بھی کم جہاں میں ہوئے
چلے جہاں سے تھے بُھولے اسی مکاں کا پتہ
ابھی تو ذکر چلا دوستوں کا محفل میں
نہ ہم سے پوچھو ابھی شہرِ دشمناں کا پتہ
وہ لوگ جن سے نویدِ بہار ملتی تھی
اب ان کے گھر سے ملے گا تمہیں خزاں کا پتہ
یہ حادثہ بھی کسی روز رونما ہو گا
خبر چمن کی ملے گی نہ باغباں کا پتہ
اس ایک راہ سے منصف تِرا گزر ہو گا
جہاں سے سنتے ہیں ملتا ہے آسماں کا پتہ
نوشاد منصف
No comments:
Post a Comment