بھٹکیں تِرے مدار میں، گردش نہ کر سکیں
ایسا نہ ہو کہ ہم تِری خواہش نہ کر سکیں
ہونٹوں پہ بے یقین، دُعائیں سجی رہیں
آنکھوں میں ابر آئیں تو بارش نہ کر سکیں
پُوچھے جو مہربان کوئی حال، ہنس پڑیں
ہم قاش قاش دل کی نمائش نہ کر سکیں
ارضِ وفا! رہائی تِری اس طرح سے ہو
باغی جو ہیں وہ کوئی بھی سازش نہ کر سکیں
ڈاکٹر ناہید شاہد
No comments:
Post a Comment