Monday, 28 September 2026

آرزو تھی کہ کبھی ان کے روبرو ہوتے

 آرزُو تھی کہ کبھی اُن کے رُوبرُو ہوتے

اک عُمر گُزرے گی تکمیلِ آرزو ہوتے

ہمارے اشکِ ندامت🥹 لہُو لہُو ہوتے

ہم بھی گُلشن میں گُلوں جیسے سرخرُو ہوتے

ان سے باتیں تو خیالوں میں ہُوا کرتی ہیں

کاش ہم خُود سے کبھی محوِ گُفتگو ہوتے

کچھ ایسا کام زمانے میں ہم بھی کر جاتے

ہمارے چرچے بھی دُنیا میں کُو بکُو ہوتے

مِل ہی جاتا صِلہ تُجھ کو بھی یقیناً رخسار

ہم اپنے اشکوں سے گر آج باوضُو ہوتے


رخسار امروہوی/رخسار امروہی

سیدہ رخسانہ زہرا

No comments:

Post a Comment