Saturday, 5 September 2026

یہ سمجھ کے چلتی ہوں تیرا نقش پا ہو گا

 یہ سمجھ کے چلتی ہوں تیرا نقشِ پا ہو گا

میں جہاں سے گُزروں گی تیرا سامنا ہو گا

وقت کیا بتائے گا کون کس کا قاتل ہے

اپنے آپ سے اک دن مجھ کو پوچھتا ہو گا

رُوٹھنے سے کیا حاصل آپ سے محبت ہے

آپ جب بھی آ جائیں میرا سر جُھکا ہو گا

جس جگہ نہ تم ہو گے جس جگہ نہ ہم ہوں گے

ایک ایسی منزل پر قافلہ رُکا ہو گا

کتنے سال بیتے ہیں اب بھی تیری آنکھوں میں

کیا خبر تھی اشکوں کا اب بھی سلسلہ ہو گا

ناز اپنے لہجہ کو جب بھی لوگ ترسیں گے

نام میرے ہونٹوں پر صرف آپ کا ہو گا


مظفرالنساء ناز

No comments:

Post a Comment