کون سی دنیا میں ہم ہیں کچھ خبر پاتے نہیں
حد تو یہ ہے، دل کو بھی اب ہمسفر پاتے نہیں
کس طرح کہہ دیں کہ تُو اے موت امرت ہے کہ زہر
جب شرابِ زندگی کو بے ضرر پاتے نہیں
کون کہتا ہے کہ ہے معدوم لیلٰی کی کمر
ہاں مگر لیلائے دنیا کی کمر پاتے نہیں
عہدِ حاضر کی عمارت دلکشا ہوتی تو ہے
ہو خلوصِ زندگی جس میں وہ گھر پاتے نہیں
ہے وہی دنیا مگر اب وہ کہاں اہلِ خلوص
کس کے گھر ارشاد جائیں کوئی گھر پاتے نہیں
نقی احمد ارشاد
No comments:
Post a Comment