Thursday, 3 September 2026

گریباں چاک ہے تو ہو ابھی دستار باقی ہے

گریباں چاک ہے تو ہو ابھی دستار باقی ہے

چلے آنا، تماشا بر سرِ بازار باقی ہے

ابھی سیلِ ندامت کی نئی یلغار باقی ہے

ابھی تک خانۂ دل کی کوئی دیوار باقی ہے

بگولے اور بھی اٹھیں گے شاید کِشتِ وِیراں سے

کہ خاکِ کُشتگاں میں خواہشِ آثار باقی ہے

نشاط آبلہ پائی کے سب آثار روشن ہیں

کہ صحرا پار ہو تو وادئ پُر خار باقی ہے

نہیں ہے بے سبب بجلی کا رہ رہ کر لپک اٹھنا

یقیناً شہر میں اک صاحبِ اسرار باقی ہے


نذیر آزاد

No comments:

Post a Comment