صفحات

Thursday, 3 September 2026

کون سی دنیا میں ہم ہیں کچھ خبر پاتے نہیں

 کون سی دنیا میں ہم ہیں کچھ خبر پاتے نہیں

حد تو یہ ہے، دل کو بھی اب ہمسفر پاتے نہیں

کس طرح کہہ دیں کہ تُو اے موت امرت ہے کہ زہر

جب شرابِ زندگی کو بے ضرر پاتے نہیں

کون کہتا ہے کہ ہے معدوم لیلٰی کی کمر

ہاں مگر لیلائے دنیا کی کمر پاتے نہیں

عہدِ حاضر کی عمارت دلکشا ہوتی تو ہے

ہو خلوصِ زندگی جس میں وہ گھر پاتے نہیں

ہے وہی دنیا مگر اب وہ کہاں اہلِ خلوص

کس کے گھر ارشاد جائیں کوئی گھر پاتے نہیں


نقی احمد ارشاد

No comments:

Post a Comment