Friday, 4 September 2026

عادت کی تحویل میں کوئی کتنا پاگل ہو جاتا ہے

 عادت کی تحویل میں کوئی کتنا پاگل ہو جاتا ہے

مجھ سے فون پکڑتے ہی وہ نمبر ڈائل ہو جاتا ہے

جتنی منت میں نے کی ہے تم سے ہجرت کرنے کی

اتنی دیر میں میرے ہمدم پیڑ بھی قائل ہو جاتا ہے

عورت پیار میں شاید مرد سے بڑھ کر اندھی ہوتی ہے

ورنہ اس کی نظروں سے تو پتھر گھائل ہو جاتا ہے

کہتا ہے؛ کہ ماہِ نو! تم کتنی ظالم لڑکی ہو

تم سے مل کر سگریٹ کا تو اثر ہی زائل ہو جاتا ہے


ماہِ نو

No comments:

Post a Comment