عادت کی تحویل میں کوئی کتنا پاگل ہو جاتا ہے
مجھ سے فون پکڑتے ہی وہ نمبر ڈائل ہو جاتا ہے
جتنی منت میں نے کی ہے تم سے ہجرت کرنے کی
اتنی دیر میں میرے ہمدم پیڑ بھی قائل ہو جاتا ہے
عورت پیار میں شاید مرد سے بڑھ کر اندھی ہوتی ہے
ورنہ اس کی نظروں سے تو پتھر گھائل ہو جاتا ہے
کہتا ہے؛ کہ ماہِ نو! تم کتنی ظالم لڑکی ہو
تم سے مل کر سگریٹ کا تو اثر ہی زائل ہو جاتا ہے
ماہِ نو
No comments:
Post a Comment