Saturday, 17 October 2026

ہاتھ ملتا ہے تو مل اب کے برس

 ہاتھ ملتا ہے تو مل اب کے برس

پھُول کلیاں نہ مسل اب کے برس

برفزاروں میں نہ جل اب کے برس

التجا کرتا ہے دل اب کے برس

تُو اٹل ہے، وہ مصمّم ہے بہت

دیکھ لے اور کے بل اب کے برس

ارباب کرم سے بدلا ہے دستور غم ایام کہاں

 اربابِ کرم سے بدلا ہے دستورِ غمِ ایّام کہاں

اس دور جہانِ ہستی میں انسان کو ہے آرام کہاں

دُنیا ہے جفاؤں کی شیدا، دُنیا کو وفا سے کام کہاں

اے حُسنِ وفا کے دِیوانے! لیتا ہے وفا کا نام کہاں

رہبر نظر آتے ہیں رہزن تاریک دل اور ماتھے پہ شکن

پُوچھو نہ حقیقت کچھ اپنی غُربت میں ہوئی ہے شام کہاں

جل کر ان آنکھوں میں آنسو جب کاجل بن جاتے ہیں

 جل کر ان آنکھوں میں آنسو جب کاجل بن جاتے ہیں 

دل سے اٹھ کر ریگ بگولے دل بادل بن جاتے ہیں 

کوئی سچی بات زباں پر جب بھی کبھی آ جاتی ہے 

وہ صحرا ہو یا گُلشن ہو سب مقتل بن جاتے ہیں 

جب بھی ذہن میں جاگ اُٹھتی ہے ان ہونٹوں کی شیرینی 

کیسے کیسے تلخ مسائل جان غزل بن جاتے ہیں 

Friday, 16 October 2026

زمیں پہ کیسا ہے قحط الرجال اف اللہ

 زمیں پہ کیسا ہے قحط الرّجال اُف اللہ

وفا کا اور جنوں کا زوال اُف اللہ

جو آدمی کا ہے اس وقت حال اُف اللہ

وفا کا اور جنوں کا زوال اُف اللہ

ترقی خوب ہوئی بے مثال اُف اللہ

مگر جو دیکھا ہے گاؤں کا حال اُف اللہ

رلا کے ہم کو چلا جانا ہے کہاں تنہا

 کہاں سے آنا ہے ہر آدمی یہاں تنہا

رُلا کے ہم کو چلا جانا ہے کہاں تنہا

یزیدِ عصر نے گھیرا ہے یوں مجھے جیسے

مقابلے میں ہو اک تیرے بے کماں تنہا

لگے ہیں خیمے وہیں آج کاروانوں کے

گیا تھا شہر میں تھک کر جہاں جہاں تنہا

دل نثار مصطفیٰ جاں پائمال مصطفیٰ

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


دل نثار مصطفیٰﷺ، جاں پائمال مصطفیٰﷺ

یہ اویس مصطفیٰﷺ ہے وہ بلال مصطفیٰﷺ

دونوں عالم تھے مِرے حرف دُعا میں غرق و محو

میں خُدا سے کر رہا تھا جب سوال مصطفیٰﷺ

سب سمجھتے ہیں اسے شمعِ شبستانِ حِرا

نُور ہے کونین کا لیکن جمالِ مصطفیٰﷺ

شکوے کی چبھن مجھ کو سدا اچھی لگی ہے

 شِکوے کی چُبھن مجھ کو سدا اچھی لگی ہے

یہ فرطِ محبت کی ادا اچھی لگی ہے

خالی ہے کہاں لُطف سے اب دل کا پِگھلنا

پُر درد زمانے کی فضا اچھی لگی ہے

لمحاتِ محبت سبھی یکساں نہیں ہوتے

اے جان وفا! تیری جفا اچھی لگی ہے

نہ ذکر آشنا نے قصۂ بیگانہ رکھتے ہیں

 نہ ذِکرِ آشنا نے قصۂ بے گانہ رکھتے ہیں

حدیثِ یار رکھتے ہیں یہی افسانہ رکھتے ہیں

چمن میں سرو قد گر جلوۂ مستانہ رکھتے ہیں

برنگِ طوقِ قمری ہم خطِ پیمانہ رکھتے ہیں

نہ اُلجھو اس قدر بے وجہ سُلجھانے میں زُلفوں کے

دلِ صد چاک تو ہم بھی برنگِ شانہ رکھتے ہیں

غیر بھی بے دم ہیں نالوں سے بت بے پیر بھی

 غیر بھی بیدم ہیں نالوں سے بُتِ بے پِیر بھی

اک ہوائی تِیر ہے یہ آہِ بے تاثیر بھی

کوئی شے خالی نہیں نیرنگِ حُسنِ یار سے

گُل میں رنگ و بُو تو مہر و مہ میں ہے تنویر بھی

کہتے ہیں رکھتے نہیں کیوں مُوئے مِژگاں کا خیال

کیا تمہارے دل میں رہ سکتا نہیں اک تِیر بھی

Thursday, 15 October 2026

عصمت کے بازار کو چھو کے آتا ہوں

 عصمت کے بازار کو چھُو کے آتا ہوں

ڈر ڈر کے دِلدار کو چھو کے آتا ہوں

کارِ محبت، مکر و فریب سے نالاں ہے

میں تو سچّے پیار کو چھو کے آتا ہوں

پھولوں کی کوئی قید نہیں ہے باغوں میں

دِیوانہ ہوں، خار کو چھو کے آتا ہوں

یہ دست کاسہ بھی لرزاں ہے تیرگی میں کہیں

 یہ دست کاسہ بھی لرزاں ہے تیرگی میں کہیں

ہمیں تو رات ہی مِلتی ہے روشنی میں کہیں

فقیر چہرے جو بِکتے ہیں شہر والوں میں

کسی کو خواب نہ مِلتے ہیں زندگی میں کہیں

چراغ بام کے بُجھتے ہیں زخم کھا کھا کر

یہ رات بولتی ہے درد خامشی میں کہیں

ان کی چمک سے چمکا چہرہ اصول کا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


انؐ کی چمک سے چمکا چہرہ اصُول کا

آنکھوں کی روشنی بھی صدقہ رسولؐ کا

حسن صدائے سرور تیری تلاش میں

حبشی کو مِل گیا ہے لہجہ قبول کا

جبریلؑ کون ہے جو رفتار جان لے

سایا نہ پا سکا وہ قدموں کی دُھول کا

ہم نے دیکھا ہے بھرے شہر میں سایا اپنا

 ہم نے دیکھا ہے بھرے شہر میں سایا اپنا

ایک سُورج ہے پسِ پشت پرایا اپنا

غمکدۂ اشکِ مُسلسل سے نہال شب ہے

زخم تازہ کو درِ یار بنایا اپنا

چاند سے پار کوئی رات بسیرا ڈالے

ہم سے پُوچھے ہے کوئی خُون بہایا اپنا

پروردگار تیرے سہاروں کو کیا ہوا

 گُم ہے فضا چمن کی نظاروں کو کیا ہُوا

گُل ہیں اُداس اُداس بہاروں کو کیا ہوا

کیوں ان کی روشنی ہے شب غم سے دُور دُور

اے آسمان! تیرے ستاروں کو کیا ہوا

دیکھے تو کوئی ان کا تغافل کہ بعدِ مرگ

وہ پُوچھتے ہیں درد کے ماروں کو کیا ہوا

Wednesday, 14 October 2026

جہاں سراب نہیں تھی وہاں سراب ملے

 جہاں سراب نہیں تھی وہاں سراب مِلے

حقیقتوں کو ٹٹولا گیا تو خواب ملے

ہر ایک سمت سے آواز بازگشت آئی

اس آرزو میں پُکارا تھا کچھ جواب ملے

ہمیں بہار کے آثار کی توقع تھی

رُخِ چمن پہ نشاناتِ انقلاب ملے

دنیادار کے در پر خدا سوالی ہے

 سِتمگری کی نئی اک طرح نکالی ہے

یہ آسمان پہ کس نے زمیں اُچھالی ہے

ہمارا اُن سے کوئی ربط تھا، نہ ہے کوئی

بنانے والوں نے تو بات ہی بنا لی ہے

وہ مہرباں ہوئے ہم پر تو باور آیا یہ

کہ جس کا نام قیامت ہے آنے والی ہے

تماشائی تماشا دیکھتا ہے

 یہ کپڑا تو بہت مہنگا پڑا ہے

بدن عریاں رہے تو کیا بُرا ہے

نمُو جیسے ہوئی ویسا نہیں ہے

بدلتے پیڑ کو بدلا گیا ہے

میں گِریہ کاٹ کر بویا گیا ہوں

سمندر میرے اندر یوں اُگا ہے

آج قسمت آزمائی ہو گئی

 آج قسمت آزمائی ہو گئی

کُوئے جاناں میں رسائی ہو گئی

وہ نہ مِلتے تو نہ تھا کوئی گِلہ

غم یہ ہے مِل کر جُدائی ہو گئی

آشنائی سے ہے جو ناآشنا

اس سے اپنی آشنائی ہو گئی

مرا دل کتنا سادہ ہے

 تِری باتوں میں آتا ہے مِرا دل کتنا سادہ ہے

غموں میں مسکراتا ہے مرا دل کتنا سادہ ہے

جفا کاروں کی دنیا میں وفا کی آس ہے اس کو

عجب سپنے سجاتا ہے مرا دل کتنا سادہ ہے

اسے کچھ بھی نہیں دکھتا سوائے تیرے دنیا میں

تمہی پر جاں لٹاتا ہے مرا دل کتنا سادہ ہے

گھنا جنگل ہے جس میں میں فقط تنہا نہیں ہوں

 ستم ظریف


گھنا جنگل ہے جس میں میں فقط تنہا نہیں ہوں

ہزاروں رفتگاں

جن کے نشانِ پا

کہیں مدغم، کہیں واضح

بلا مقصد پڑے ہیں

پڑے بھی اس لیے ہیں کہ نشانِ پا کی قسمت ہی یہی ہے

کیوں بلندی پا کے ہستی میں اتر جاتا ہوں میں

 کیوں بلندی پا کے ہستی میں اتر جاتا ہوں میں

کس لیے احساس کی حد سے گزر جاتا ہوں میں

ڈوب جائے گی تو اپنے آنسوئوں میں سوچ لے

چھوڑ کے اے زندگی تجھ کو اگر جاتا ہوں میں

زخم بے انداز ہیں پھر بھی ٹھہرِ شہرِ طلب

آنے والی کل کی خاطر پھر سنور جاتا ہوں میں

Tuesday, 13 October 2026

شب فراق مری جان اک عذاب میں ہے

 شبِ فراق مِری جان اک عذاب میں ہے

تڑپ رہا ہے جگر دل بھی اضطراب میں ہے

ہزاروں طالبِ دیدار ٹُوٹے پڑتے ہیں

اگرچہ جلوۂ جاناں ابھی نقاب میں ہے

نگاہ مِلتے ہیں مستانہ کر دیا ساقی

بتائے کوئی یہ مستی کہاں شراب میں ہے

ظلمت کو پردھان بنا کر دیکھ لیا

 ظُلمت کو پردھان بنا کر دیکھ لیا

سُورج کو بے جان بنا کر دیکھ لیا

اب جو لنکا ہار گئے تو رونا کیا

بھیدی کو دربان بنا کر دیکھ لیا

خیر دُعائیں لب پر ہی دم توڑ گئیں

جذبوں کو بھگوان بنا کر دیکھ لیا

کب یہ مانگا تخت شاہی دے کوئی پوشاک دے

 کب یہ مانگا تختِ شاہی دے، کوئی پوشاک دے

خاکساروں کو تُو بس اپنی گلی کی خاک دے

ہم زمیں زادے ہیں آخر، ہم کو یہ معلوم ہے

یُوں نہ دھوکا تُو ہمیں اے گردشِ افلاک دے

جو خُوشی پتھر کرے دل کو تو بہتر ہے یہی

اے خُدا! تُو اُس کے بدلے دیدۂ غمناک دے

تمہارے غم کو غم جاں بنا لیا میں نے

 تمہارے غم کو غم جاں بنا لیا میں نے

کہ جنگلوں کو گلوں سے سجا دیا میں نے

نہ جانے کتنی امیدیں لہو لہو کر کے

دل تباہ کو جینا سکھا دیا میں نے

سبب ہو کچھ بھی انہیں روٹھنے کی عادت ہے

یہ سوچنا ہی غلط ہے کہ کیا کیا میں نے

بلائے جاں سہی پر زندگی اتنی بھیانک بھی نہیں

 یُوں بھی ہوتا ہے


یُوں بھی ہوتا ہے کہ اکثر

زندگانی کے اُفق پر

بدلیاں غم کی یکایک

یُوں اُمڈ آتی ہیں جیسے

زندگی کی آخری یہ شام ہو

چھُوٹنے لگتی ہیں نبضیں

یہاں درخت تھے سایہ تھا کچھ دنوں پہلے

 یہاں درخت تھے سایہ تھا کچھ دنوں پہلے 

عجیب خواب سا دیکھا تھا کچھ دنوں پہلے 

یہ کیا ہوا کہ اب اپنا بھی اعتبار نہیں 

ہمیں تو سب کا بھروسا تھا کچھ دنوں پہلے 

ہمارے خون رگ جاں کی لالہ کاری سے 

جو آج باغ ہے صحرا تھا کچھ دنوں پہلے 

مشہور نہ تھا تو بھی مرے نام سے پہلے

 آرام جو کرتے نہیں آرام سے پہلے

منزل پہ پہنچتے ہیں وہی شام سے پہلے

یہ ایک حقیقت ہے کہانی نہیں اے دوست

مشہور نہ تھا تُو بھی مِرے نام سے پہلے

دنیا جسے کہتے ہیں سمجھ میں نہیں آتا

یہ کیا تھی تِرے جلوہ گہِ عام سے پہلے

Monday, 12 October 2026

کوئی خیال نہ آیا ترے خیال کے بعد

 سبک ہوں اپنی نگاہوں میں عرض حال کے بعد

کہ آبرو نہیں رہتی کبھی سوال کے بعد

نہ پوچھو دل کو ہوئی ہیں اذیتیں کیا کیا

کبھی سوال سے پہلے کبھی سوال کے بعد

ضمیر کی وہ مسلسل ملامتیں توبہ

ملا ہے دل کو سکوں اشک انفعال کے بعد

آ اے دل خطائیں بخشوانے چلتے ہیں

 آ اے دل خطائیں بخشوانے چلتے ہیں

آج روٹھے ہوئے یار کو منانے چلتے ہیں

ہو سکتا ہے فراموش کر دے وہ بے پرواہ

اسے وعدۂ فردا یاد دلانے چلتے ہیں

ایمان پختہ ہو یا خستہ، سزا ملے یا جزا

دہلیزِ یار پہ جبیں جھکانے چلتے ہیں

سایہ بھی اب ہے ہم سے جدا دیکھتے چلیں

 کُچھ دکھائے ہم کو خُدا دیکھتے چلیں

کیوں لوگ ہیں خُدا سے خفا دیکھتے چلیں

ٹکرا کے جس سے لوٹ گئی ہر صدا وہ در

خُوشبو کی دستکوں سے کُھلا دیکھتے چلیں

دُنیا ہمارے ساتھ تھی دورِ بہار میں

سایہ بھی اب ہے ہم سے جُدا دیکھتے چلیں

نہ تھا فضاؤں کا قیدی نہ وہ مکان میں تھا

 نہ تھا فضاؤں کا قیدی نہ وہ مکان میں تھا

پرندہ فکر کا اک خاص ہی اُڑان میں تھا

تمام شہر کے ہاتھوں میں تھے دھنش لیکن

جو ایک تیر تھا وہ میری ہی کمان میں تھا

جسے پڑوسی کے ہاتھوں فروخت کر ڈالا

ہمارے پُرکھوں کا ورثہ اسی زبان میں تھا

رخ سے پردا جو اٹھا رکھا ہے توبہ توبہ

 رُخ سے پردا جو اُٹھا رکھا ہے توبہ توبہ

تُو نے ہنگامہ مچا رکھا ہے توبہ توبہ

ایک تو آنکھیں تِری یار ہیں خنجر جیسی

اس پہ کاجل بھی لگا رکھا ہے توبہ توبہ

شیخ جی! آپ کو آخر یہ ہوا کیا ہے کہو

جام ہاتھوں میں اٹھا رکھا ہے توبہ توبہ

ساقیا یہ درد گہرا ہے کوئی امداد کر

 ساقیا! یہ درد گہرا ہے کوئی امداد کر

ورنہ مجھ کو تیشہ دے کر تُو یہیں فرہاد کر

برگزیدہ ایک بسمل کی ہزاروں منزلیں

رقص کرتی ہیں کسی کے جملۂ ناشاد پر

قیس کو خانہ بدوش اور میر کو وحشت زدہ

اور مجھ کو عاشقوں کے درمیاں ایجاد کر

Sunday, 11 October 2026

واقف ہیں میرے نالۂ دل کے اثر سے آپ

 واقف ہیں میرے نالۂ دل کے اثر سے آپ

بے چین ہیں جو صدمۂ درد جگر سے آپ

یہ بھی خبر ہے دل پہ گزرتی ہے میرے کیا

جا تو رہے ہیں پھیرے ہوئے منہ ادھر سے آپ

آرام دن کو اور نہ راتوں کو چین ہے

واقف نہیں ہیں کیا مِری شام و سحر سے آپ

ڈھلتی شام طویل مسافت

 ڈھلتی شام

طویل مُسافت

وحشت زدہ ناگ

تاک میں بیٹھے گِدھ

اور وہ اجنبی مُسافر

شاید کہ آیا تھا

کوئی بتلائے حال ساقی کا

 کوئی بتلائے حال ساقی کا

آ رہا ہے خیال ساقی کا

کوئی ثانی نہیں مِلا اب تک

یار اس بے مثال ساقی کا

ہائے کیا خُوب تھا وہ منظر بھی

میرے ہونٹوں پہ گال ساقی کا

چشم تنہائی نیا چہرہ تراش

 ازدحامِ آئینہ چہرہ تراش

چھوڑ اس کو دوسرا چہرہ تراش

میں کہاں اُمید کی گُل کاریاں

یاس کا منظر ہُوا چہرہ تراش

ڈھونڈ اپنے جسم کی تیزابیت

رُوح کی شیریں فضا چہرہ تراش

Saturday, 10 October 2026

روز میں ٹوٹ پھوٹ جاتا ہوں

 روز میں ٹوٹ پھوٹ جاتا ہوں 

روز پھر خود کو میں بناتا ہوں 

روز میں خود سے روٹھ جاتا ہوں

اور پھر خود کو میں مناتا ہوں 

روز اک کام کرنا ہوتا ہے 

روز وہ کام بھول جاتا ہوں

آدمی کے مرنے میں دیر کتنی لگتی ہے

 زلف کے سنورنے میں دیر کتنی لگتی ہے 

آدمی کے مرنے میں دیر کتنی لگتی ہے

آنکھ سے بھلا دل کا فاصلہ ہی کتنا ہے 

سیڑھیاں اترنے میں دیر کتنی لگتی ہے 

پتھروں پہ چلتا ہوں کانچ کا بدن لے کر 

کرچیاں بکھرنے میں دیر کتنی لگتی ہے 

یہ شیر ہم پہ جھپٹتا ہے کھال نوچتا ہے

 یہ شیر ہم پہ جھپٹتا ہے، کھال نوچتا ہے 

ہمارے جسم کو تیرا خیال نوچتا ہے

کبھی سکون کی صُورت بھی خواب لگتی ہے

کہ نیند آتے ہی کوئی ملال نوچتا ہے 

یہ کس مقام پہ لے آئی زندگی ہم کو

ہمارا ظرف ہمارے سوال نوچتا ہے 

مان لیں گے وہ ہماری التجا لگتا نہیں

 مان لیں گے وہ ہماری التجا لگتا نہیں

معاف کر دیں گے ہماری ہر خطا لگتا نہیں

کہہ سکیں سچ بات کو وہ ہر بشر کے سامنے

آج کل لوگوں میں اتنا حوصلہ لگتا نہیں

صبح ہوتے ہی بدل جاتے ہیں ان کے فیصلے

دیرپا ہو گا کوئی بھی فیصلہ لگتا نہیں

لوگ پتھر کے ہیں پتھر ہی دکھائی دے گا

 لوگ پتھر کے ہیں پتھر ہی دکھائی دے گا

ہر طرف زخموں کا منظر ہی دکھائی دے گا

تشنگی آج کنارے سے گلے ملتی ہے

خواب میں اب تو سمندر ہی دکھائی دے گا

آگ نفرت کی جو سینے میں بھڑک اٹھے گی

شہر میں جلتا ہوا گھر ہی دکھائی دے گا

نظر بھر کی خطا میں عشق کر جانے کی جرأت ہے

 نظر بھر کی خطا میں عشق کر جانے کی جرأت ہے

تمہیں بس دیکھنا تھا، اب سنور جانے کی جرأت ہے

نہیں ہے فُرصتِ غم پھر تمہیں اپنا بنانے کی

مگر اب خامشی میں گُھٹ کے مر جانے کی جرأت ہے

میں اُٹھ کر آ گیا تھا جوگ میں یونہی تمہارے ہاں

میں ٹِلہ جوگیاں کا ہوں سو گھر جانے کی جرأت ہے

آنکھ سب رکھتے ہیں لیکن دیکھتا کوئی نہیں

 آہ بے تاثیر ہے نالہ رسا کوئی نہیں

درد وہ مجھ کو مِلا جس کی دوا کوئی نہیں

دیکھتا ہوں راہ میں مُڑ مُڑ کے ہر چہرے کو میں

ہمسفر کتنے ہیں لیکن ہمنوا کوئی نہیں

اس سے بڑھ کر اور کیا ہو گا عذابِ زندگی

آنکھ سب رکھتے ہیں لیکن دیکھتا کوئی نہیں

Friday, 9 October 2026

جس کو دیکھو ہے خریدار رسول عربی

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


جس کو دیکھو ہے خریدار رسولِ عربیﷺ

مصر سے بڑھ کے ہے بازار رسول عربی

جب خدا خود ہے خریدارِ رسول عربیﷺ

کیوں نہ ہو گرمئی بازارِ رسولِ عربیﷺ

طُور پر دیکھ کے غش جس کو ہوئے تھے موسیٰ

تھا وہ اک پرتوِ رُخسار رسول عربیﷺ

دل لگا کر رنج اٹھانا کوئی ہم سے سیکھ جائے

 اس جہاں سے دل لگانا کوئی ہم سے سیکھ جائے

دل لگا کر رنج اٹھانا کوئی ہم سے سیکھ جائے

غم کی چوٹیں دل پہ کھانا کوئی ہم سے سیکھ جائے

ضبط سے جاں کو گُھلانا کوئی ہم سے سیکھ جائے

اف نہیں کرتے مبادا رازِ مُضمر فاش ہو

داغِ سینہ کو چُھپانا کوئی ہم سے سیکھ جائے

کیا تجھ کو کبھی آئی ہے قاضی کی وفا یاد

 انشاء ہی رہا یاد نہ منشاء ہی رہا یاد

مجھ کو تو ابھی کوئی نہیں تیرے سوا یاد

میں تو کبھی بُھولے سے بھی تجھ کو نہیں بُھولا

اور تُو نے تو بُھولے سے بھی مجھ کو نہ کیا یاد

دُنیا سے تھا نزدیک تو دُنیا نے نہ پوچھا

دُنیا سے ہوا دُور تو دُنیا نے کیا یاد

ہجوم غم سے گھبراتے نہیں ہم

 ہجوم غم سے گھبراتے نہیں ہم

محبت کر کے پچھتاتے نہیں ہم

بہت بے چین رہتے ہیں وہ اس دن

کسی دن جب نظر آتے نہیں ہم

گُلِ عارض پہ کوئی بات تو ہے

مگس کی طرح منڈلاتے نہیں ہم

ساعت غم میں بھی فریاد نہیں کر پایا

 ساعت غم میں بھی فریاد نہیں کر پایا

ایک مدت سے تجھے یاد نہیں کر پایا

دیکھ کر وار پہ خاموش مِری آنکھوں کو

کرنے آیا تھا جو جلاد نہیں کر پایا

میری غزلوں کو کھنگالا بھی گیا تھا لیکن

فیصلہ کوئی بھی نقاد نہیں کر پایا

اداس آنکھ میں زینت دکھائی دیتی ہے

 اداس آنکھ میں زینت دکھائی دیتی ہے

کسی کے ہجر کی رنگت دکھائی دیتی ہے

اُسے صدا نہیں دیتا کہ لطفِ حاصل سے

جمالِ یار میں خفت دکھائی دیتی ہے

وہ اپنے عیب بھی آئینے پر ہی دھر آیا

کمال اس شخص میں جرأت دکھائی دیتی ہے

حسن کو سمجھتا ہے عشق ہم زباں اپنا

 حسن کو سمجھتا ہے عشق ہم زباں اپنا

ہے حقیقت ایسی ہی یا ہے یہ گماں اپنا

فاش ہم کریں کیونکر راز مدعا یابی

گم حصول مقصد میں حاصل بیاں اپنا

کارساز ہے کتنی دید و باز دید اپنی

مل گیا صلہ ہم کو بعد امتحاں اپنا

حسرت دل کو مار کر دیکھا

 حسرت دل کو مار کر دیکھا

بوجھ سارا اتار کر دیکھا

وقت ممکن کہاں گزارے تو

جیسے میں نے گزار کر دیکھا

کوئی میری مدد کو آیا نہیں

میں نے سب کو پکار کر دیکھا

Thursday, 8 October 2026

ماضی کے روشن کردار کہاں سے لاؤں

 ماضی کے روشن کردار کہاں سے لاؤں

سر ہی نہیں قابل دستار کہاں سے لاؤں

اپنی زمیں کا تھوڑا ٹکڑا تمہیں بھی دے دیں

مہاجرو! ایسے انصار کہاں سے لاؤں

زنگ آلود عجائب گھر میں رکھی ہو گی

عالمگیر کی وہ تلوار کہاں سے لاؤں

وہ حرف حرف مکمل کتاب کر دے گا

 وہ حرف حرف مکمل کتاب کر دے گا

ورق ورق کو محبت کا باب کر دے گا

اُجالے کے لیے اس کو صدا لگاؤ اب

یہ کام چٹکیوں میں آفتاب کر دے گا

وہ جب بھی دیکھے گا مستی بھری نظر سے مجھے

مرے وجود کو یکسر شراب کر دے گا

لب تشنۂ تمنا کہیں جام تک نہ پہنچے

 لب تشنۂ تمنا کہیں جام تک نہ پہنچے

یہ سرورِ ذوقِ پیہم بھی تمام تک نہ پہنچے

بجلی گرانے والے! یہ بات یاد رکھنا

شعلہ چمن سے اٹھ کر تِرے بام تک نہ پہنچے

تیشہ زنی اکارت،۔ بے سُود سر فروشی

وہ جُوئے شِیر بھی کیا جو عوام تک نہ پہنچے

بکتے ہیں ہمیں آپ خریدار ہمیں ہیں

 بکتے ہیں ہمیں آپ خریدار ہمیں ہیں 

یہ طرفہ تماشا سر بازار ہمیں ہیں 

بلبل ہمیں زینت وہ گلزار ہمیں ہیں 

ہر پھول میں ہر پھل میں نمودار ہمیں ہیں 

دل ہم میں سدا رہتا ہے ہم رہتے ہیں دل میں 

ہم آپ ہی دل دادہ ہیں دلدار ہمیں ہیں 

درد روتا ہے درد دے کے مجھے

 درد روتا ہے درد دے کے مجھے

سرخ بھی زرد ہو گیا ہے اب

تم مجھے درد دے نہیں سکتے

درد ہمدرد ہو گیا ہے اب

اب کسی سے نہیں کوئی الفت

دل یہ بے درد ہو گیا ہے اب

سارے رستے تو ہو گئے مسدود

 ماہیا/ثلاثی/سہ حرفی/*ہائیکو/تروینی/ترائلے


سارے رستے تو ہو گئے مسدود

کاش وہ خود بخود چلے آئیں

کسی صورت کسی بہانے سے


اکرم کلیم

Wednesday, 7 October 2026

یہاں ٹھہریں وہاں جائیں کدھر ہم کوچ کر جائیں

 ہجرتوں کے سفر


مگر ہم دربدر لوگوں کی بھی اپنی کہانی ہے

پلٹ کر کس طرح جائیں

تذبذب کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوبے رہتے ہیں

یہاں ٹھہریں وہاں جائیں

کدھر ہم کوچ کر جائیں


جمیل احسن

تیری میری ذات کا میل

 زعفرانی کلام


تیری میری ذات کا میل

کِیکر پر انگُور کی بیل

جاہل بن بیٹے سُلطان

عالم فاضل بیچیں تیل

دو ہی انت سیاست کے

کُرسی یا اڈیالہ جیل

جواب چیخ اٹھے ہیں سوال چیخ اٹھے

 جواب چیخ اٹھے ہیں سوال چیخ اٹھے

کہیں پہ لفظ کہیں پر خیال چیخ اٹھے

دکھا یہ خواب کہ کل رات مر گیا ہوں میں

گناہ جتنے تھے سب حسب حال چیخ اٹھے

کہیں امام کہیں مقتدی ملے جاہل

اذانیں سن کے ہماری بلال چیخ اٹھے

کوئی قصہ نیا سنا کر دیکھ

 کوئی قصہ نیا سنا کر دیکھ

حرف سے حرف کو ملا کر دیکھ

جو بھی چادر بچھا کے بیٹھا ہے

اس سے نظریں سبھی ملا کر دیکھ

حیلہ گر ہے کسی ندامت میں

اس کو رستہ کوئی دکھا کر دیکھ

باب حضور میں

 بابِ حضورﷺ میں


اے ہواؤ، دریاؤ، ابر پارو

جب تک وہاں سے گزرنا

کچھ ہوا

اور پانی

اپنے ساتھ لے آنا

کہ ہم بہت پیاسے ہیں

مہربان گاؤں کے لوگ اور گھر سارے

 کم نصیبی


مہربان گاؤں کے

لوگ اور گھر سارے

جھیل، راستے، جھرنے

سائباں شجر سارے

منتظر ہی رہتے ہیں

وہ اپنی ذات میں گم تھا نڈھال ایسا تھا

 وہ اپنی ذات میں گم تھا نڈھال ایسا تھا

مزاج پوچھنے والے کا حال ایسا تھا

کوئی چراغ سا چہرہ ادھر نہیں آیا

میں نا مراد تھا یارو کہ سال ایسا تھا

دبا دیا تھا کسی ہاتھ کو اندھیرے میں

وہ جان جائے گا میرا خیال ایسا تھا

اس دل نے رلایا ہے اک بار مجھے پھر سے

 اس دل نے رلایا ہے اک بار مجھے پھر سے

اس دل نے مجھے پھر سے وہ یاد دلائی ہے

یہ کیسی جدائی ہے جو ختم نہیں ہوتی

یہ کیسی اداسی ہے اس دل پہ جو چھائی ہے

میں نے ہی محبت کا اظہار کیا پہلے

میں نے ہی اسے جا کر یہ بات بتائی ہے

یہ کس مقام پہ آ کر ٹھہر گئی دنیا

 یہ کس مقام پہ آ کر ٹھہر گئی دنیا 

ہمیں تو خواب سے محروم کر گئی دنیا

غریب پر تو ستم ڈھا رہی تھی رہ رہ کر

امیر سامنے آیا تو ڈر گئی دنیا

کہا تھا مجھ کو مصیبت میں کام آئے گی 

ستم ہے قول سے اپنے مُکر گئی دنیا 

Tuesday, 6 October 2026

بوجھل ہوں سر پہ بوجھ اٹھایا ہوا تو ہے

 بوجھل ہوں سر پہ بوجھ اٹھایا ہوا تو ہے

مشکل میں ہوں خدا کو بتایا ہوا تو ہے

اور اب تو یار دوست بھی کرنے لگے سوال

کچھ دن سے ایک رنگ سا آیا ہوا تو ہے 

اس نے بھی ایک بیل اگائی ہے اس طرف

ہم نے بھی ایک پیڑ لگایا ہوا تو ہے

کوفہ مزاج شہر میں رونے کا فائدہ

 کوفہ مزاج شہر میں رونے کا فائدہ؟

بس دیکھتے ہیں دور سے ماتم تماش بین

درویش کی دھمال پہ فتوے لگائیں گے

مرشد کے التفات سے برہم تماش بین

گھنگرو کی خستگی پہ سبھی معترض تو ہیں

ٹخنوں کے زخم دیکھتے ہیں کم تماش بین

گئے ہیں دیس کو ہم اپنے چھوڑ کر بھی نہیں

 گئے ہیں دیس کو ہم اپنے چھوڑ کر بھی نہیں

مہاجرت کے لیے شرط اب سفر بھی نہیں

اسی جہان میں رہتے ہیں خوبرو ایسے

یقین مجھ کو ہوا اس کو دیکھ کر بھی نہیں

مرے وجود میں گھل مل کے کر گیا تنہا

وہ ایک شخص جو آیا کبھی نظر بھی نہیں

فرصت مرہمی نہ تھی زخم چھلا چھلا رہا

 فرصتِ مرہمی نہ تھی، زخم چِھلا، چِھلا رہا

صبح سے شام تک وہی کام کا سِلسلہ رہا

ذہن میں وحشتیں نہ ہوں، دل تو ہو پر زِ درد و غم

مانا کہ خام تھا جنوں، شوق بھی بے صِلہ رہا؟

جوشِ نمو بھی ہے بجا، لمحے بھی ہیں طرب فزا

خدشہ سا دل میں ہے کہ وقت، سَم تو نہیں پلا رہا

وہ دشمن ہو گیا اچھا ہوا ہے

 وہ دُشمن ہو گیا اچھا ہُوا ہے

یہ لمحہ دل پہ اب لِکھا ہوا ہے

مگر سچ ہے کہ وہ بہکا ہوا ہے

مگر اے دل وہ کیوں بہکا ہوا ہے

بلائیں لے رہے تھے لوگ سارے

مگر بچہ ہے پھر سہما ہوا ہے

Monday, 5 October 2026

سوختہ کشتی کا ملبہ میں مرا دل اور شام

 سوختہ کشتی کا ملبہ میں مرا دل اور شام

غمزدہ اترے ہوئے دریا کا ساحل اور شام

رات کے اک پیشرس تارے کی دھڑکن تیز تیز

آنکھ میں سہمے ہوئے خوابوں کی جھلمل اور شام

خستگی سے چُور پاؤں حسرتِ واماندگی

کہر میں ڈُوبی ہوئی موہوم منزل اور شام

ہماری زیست میں کچھ ایسے مہ و شاں گزرے

 ہماری زیست میں کچھ ایسے مہ و شاں گزرے

زمیں پہ جیسے ستاروں کے کارواں گزرے

متاع زیست سمجھ کر اسے سمیٹ لیا

تِرے لیے جو ستم ہائے آسماں گزرے

خود اپنے حال پہ آنکھوں میں آ گئے آنسو

تِرے خیال میں کیا کیا نہیں گُماں گزرے

آوازوں کے بلوے سے جب ننگے سر خاموشی گزری

 آوازوں کے بلوے سے جب ننگے سر خاموشی گزری

خاک اڑاتی ساتھ میں زندہ غیرت کی اک لاش بھی گزری

 کوچہ بہ کوچہ قریہ بہ قریہ پشتِ خمیدہ سے جکڑی

طوق و سلاسل کے ہمراہ زنجیر بھی شور مچاتی گزری

لاکھوں تماشائی آنکھوں کے بیچ جھکا کر اپنا سر

بے مقنع تصویر حیا کی آنکھ سے خون بہاتی گزری 

گردن سے جدا کر دو لو حاضر ہے مرا سر

 گردن سے جدا کر دو، لو حاضر ہے مِرا سر

میں کہہ نہیں سکتا کبھی قطرے کو سمندر

ہے جام سخن اصل میں آگاہی کا ساغر

کہتے ہیں جسے شاعری حکمت ہے سراسر

زردار! اگر تجھ کو خوشی چاہیے سچی

محتاج کی، مفلس کی، غریبوں کی مدد کر

تری اک چشم رحمت سے ترا بیمار بہتر ہے

عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


تِری اِک چشمِ رحمت سے تِرا بیمار بہتر ہے

ہزاروں طِبی نسخوں سے نگاہِ یار بہتر ہے

جگہ مِل جائے گر پاپوش گاهِ یار میں مجھ کو

خوشا یہ مسندِ طاؤس سے صد بار بہتر ہے

شہنشاہی سے بڑھ کر ہے تِری پاپوش برداری

سکندر سے تِرا اِک خادمِ دربار بہتر ہے

Sunday, 4 October 2026

کہ میں سادہ سی لڑکی تھی

 جوانی کتنی چھوٹی ہے


کہ میں سادہ سی لڑکی تھی

نہ بنتی تھی سنورتی تھی

مِرا بس دوش اتنا ہے

کہ میں خوابوں پہ مرتی تھی

نہ اشکوں سے مراسم تھے

میں ہر حالت پہ ہسنتی تھی

لاکھ میں نے تجھے چھپانا ہے

 لاکھ میں نے تجھے چھپانا ہے

تیری خوشبو نے پھیل جانا ہے

ہم کو سچ بولنے کی عادت ہے

ہم نے نقصان تو اٹھانا ہے

ہم سلامت رہیں گے باہر سے

ہم نے اندر سے ٹوٹ جانا ہے

غلط ہے ماضی کسی کا کسی کا حال غلط

 تمام عمر ہی کھاتا رہا جو مال غلط

بتاؤ کیسے نہ اٹھے گی اس کی آل غلط

کچھ ایسے لوگ بھی شامل ہیں بزمِ خوباں میں

غلط ہے ماضی کسی کا کسی کا حال غلط

تمہارے حسن کو تشبیہ دوں تو کس شے سے

تمہارے حسن نے کر دی ہے ہر مثال غلط

Saturday, 3 October 2026

میں دل کے درد میں تڑپنے والا

 جہاں میں رہتا ہوں

وہاں استنبول کے پانیوں کو چوم کر ہوائیں آتی ہیں

یونس ایمرے کی داستان محبت میں

خالدہ ادیب خانم کے رتجگوں میں گونجتی

سنگدل قدموں کی آہٹیں، اداس صفحوں کی سرسراہٹیں سناتی ہیں

گھنے جنگلوں میں بارش کی بوندیں اذیت میں سسکتی ہیں

تمہاری بزم میں محروم جام ہم بھی تھے

 تمہاری بزم میں محروم جام ہم بھی تھے

فقط رقیب نہیں تشنہ کام ہم بھی تھے

فقیہ شہر نے گمراہ کر دیا ورنہ

صفت شناس حلال و حرام ہم بھی تھے

عمامہ بند و قبا پوشگاں کا ذکر ہی کیا

ترے حضور میں با احترام ہم بھی تھے

رات بنجر ہوئی کوئی اکھوا نہیں پھوٹتا

 رات بنجر ہوئی


کوئی اکھوا نہیں پھُوٹتا

رات کی زرد ٹہنی کی کمزور بانہیں کسی پھُول کی آرزو سے تہی

رات بنجر ہوئی کوکھ جیسی ہوئی، یعنی بے آرزو

کوئی ہنگامہ خیزی نہ سیلِ بلا خیز کا سامنا

ایک تیرہ شبی جس میں ذوقِ نمو کا گُزر تک نہیں

Friday, 2 October 2026

جاؤ دل پہ بندش لگا سکتا ہے کون

 جہاں تم نے چھوڑا ہے


جاؤ

دل پہ بندش لگا سکتا ہے کون؟

جاؤ اسی کی طرف جاؤ

جس کے خوابوں آنکھیں مخمور ہیں تمہاری

جاؤ اسی کی طرف جاؤ

میں تو یہیں ہوں

کب ہوئی ہے سحر ہم نہیں جانتے

 کب ہوئی ہے سحر ہم نہیں جانتے

رات ہے یا سحر ہم نہیں جانتے

کیسے ہو گی بسر ہم نہیں جانتے

آپ ہیں جان اگر تو جگر ہم بھی ہیں

فرق جان و جگر ہم نہیں جانتے

غم دل کی دوا کوئی نہیں ہے

 غم دل کی دوا کوئی نہیں ہے

ہمیں ان سے گلہ کوئی نہیں ہے

وفا کے راستوں میں کھو گیا دل

کہاں ڈھونڈوں پتا کوئی نہیں ہے

جھکا دوں گا میں سر قدموں پہ جس کے

وہ تم ہو دوسرا کوئی نہیں ہے

خوشبو کے ساتھ ساتھ چلی تازگی کوئی

 اک پھول جیسی شکل نظر آ گئی کوئی

خوشبو کے ساتھ ساتھ چلی تازگی کوئی

​اس شہرِ بے چراغ کی وحشت پہ کیا کہوں

اپنا بھی لگ رہا ہے مجھے اجنبی کوئی

پتھر مزاج مجھ کو دکھانے سے پیشتر

ثابت تو کر، کہ تو بھی نہیں سامری کوئی