Wednesday, 7 October 2026

اس دل نے رلایا ہے اک بار مجھے پھر سے

 اس دل نے رلایا ہے اک بار مجھے پھر سے

اس دل نے مجھے پھر سے وہ یاد دلائی ہے

یہ کیسی جدائی ہے جو ختم نہیں ہوتی

یہ کیسی اداسی ہے اس دل پہ جو چھائی ہے

میں نے ہی محبت کا اظہار کیا پہلے

میں نے ہی اسے جا کر یہ بات بتائی ہے

مشکل سے گزارا ہے اس دل نے بہت مجھ کو

اس دل کو اگر تیری کچھ یاد بھی آئی ہے

اک کام کا ہم نے بھی یہ کام کیا ہے بس

اک نام کی شہرت ہی بس ہم نے کمائی ہے

بس میں نے وقاص اس کو اس دل میں بسایا ہے

بس میں نے وقاص اس سے یہ بات چھپائی ہے


وقاص یوسف

No comments:

Post a Comment