اربابِ کرم سے بدلا ہے دستورِ غمِ ایّام کہاں
اس دور جہانِ ہستی میں انسان کو ہے آرام کہاں
دُنیا ہے جفاؤں کی شیدا، دُنیا کو وفا سے کام کہاں
اے حُسنِ وفا کے دِیوانے! لیتا ہے وفا کا نام کہاں
رہبر نظر آتے ہیں رہزن تاریک دل اور ماتھے پہ شکن
پُوچھو نہ حقیقت کچھ اپنی غُربت میں ہوئی ہے شام کہاں
اے طائرِ خُوش آواز! ابھی رہنے دے بہاروں کے نغمے
شاید یہ تجھے معلوم نہیں گُلشن میں بِچھے ہیں دام کہاں
رہبر نہ مِلا، منزل نہ مِلی، باقی ہے سفر، دِن ختم ہوا
میں دیکھ رہا ہوں حسرت سے جلتا ہے چراغِ شام کہاں
خلیق برہانپوری
No comments:
Post a Comment