انشاء ہی رہا یاد نہ منشاء ہی رہا یاد
مجھ کو تو ابھی کوئی نہیں تیرے سوا یاد
میں تو کبھی بُھولے سے بھی تجھ کو نہیں بُھولا
اور تُو نے تو بُھولے سے بھی مجھ کو نہ کیا یاد
دُنیا سے تھا نزدیک تو دُنیا نے نہ پوچھا
دُنیا سے ہوا دُور تو دُنیا نے کیا یاد
افسوس کہ ہر ایک کو وہ بُھول چکا تھا
اب خُوش ہے کہ ہر ایک نے ہے اس کو کیا یاد
وہ بُھول چکا ہے تِری ہر ایک جفا کو
کیا تجھ کو کبھی آئی ہے قاضی کی وفا یاد
منظور قاضی
No comments:
Post a Comment