مان لیں گے وہ ہماری التجا لگتا نہیں
معاف کر دیں گے ہماری ہر خطا لگتا نہیں
کہہ سکیں سچ بات کو وہ ہر بشر کے سامنے
آج کل لوگوں میں اتنا حوصلہ لگتا نہیں
صبح ہوتے ہی بدل جاتے ہیں ان کے فیصلے
دیرپا ہو گا کوئی بھی فیصلہ لگتا نہیں
آج ہر مسئلے کو ہم نے اس قدر اُلجھا دیا
مل سکے گا ان کا کوئی راستا لگتا نہیں
ہر طرف ہے قتل و غارت، ہر طرف چیخ و پکار
آج دنیا میں کہیں پر ہے خدا لگتا نہیں
ہو گئی محدود اب اپنے میں ہر اک زندگی
اب یہاں کوئی کسی کا آشنا لگتا نہیں
کرشن پرویز
ہری کرشن تھاپر
No comments:
Post a Comment