صفحات

▼

Saturday, 10 October 2026

مان لیں گے وہ ہماری التجا لگتا نہیں

 مان لیں گے وہ ہماری التجا لگتا نہیں

معاف کر دیں گے ہماری ہر خطا لگتا نہیں

کہہ سکیں سچ بات کو وہ ہر بشر کے سامنے

آج کل لوگوں میں اتنا حوصلہ لگتا نہیں

صبح ہوتے ہی بدل جاتے ہیں ان کے فیصلے

دیرپا ہو گا کوئی بھی فیصلہ لگتا نہیں

آج ہر مسئلے کو ہم نے اس قدر اُلجھا دیا

مل سکے گا ان کا کوئی راستا لگتا نہیں

ہر طرف ہے قتل و غارت، ہر طرف چیخ و پکار

آج دنیا میں کہیں پر ہے خدا لگتا نہیں

ہو گئی محدود اب اپنے میں ہر اک زندگی

اب یہاں کوئی کسی کا آشنا لگتا نہیں


کرشن پرویز

ہری کرشن تھاپر

No comments:

Post a Comment