لوگ پتھر کے ہیں پتھر ہی دکھائی دے گا
ہر طرف زخموں کا منظر ہی دکھائی دے گا
تشنگی آج کنارے سے گلے ملتی ہے
خواب میں اب تو سمندر ہی دکھائی دے گا
آگ نفرت کی جو سینے میں بھڑک اٹھے گی
شہر میں جلتا ہوا گھر ہی دکھائی دے گا
دوستو طنز کے پتھر سے نوازو مجھ کو
زخم دو گے تو گُلِ تر ہی دکھائی دے گا
درد کو لاکھ بھی میزان کرم پر تولو
اپنے حصے میں برابر ہی دکھائی دے گا
عکس آنکھوں میں ہو جب منظرِ نادیدہ کا
دوستو شہرِ ستمگر ہی دکھائی دے گا
ہاتھ آئی ہو جسے پیار کی دولت اختر
وہ بہرحال تونگر ہی دکھائی دے گا
اختر عظیم آبادی
No comments:
Post a Comment