Saturday, 10 October 2026

لوگ پتھر کے ہیں پتھر ہی دکھائی دے گا

 لوگ پتھر کے ہیں پتھر ہی دکھائی دے گا

ہر طرف زخموں کا منظر ہی دکھائی دے گا

تشنگی آج کنارے سے گلے ملتی ہے

خواب میں اب تو سمندر ہی دکھائی دے گا

آگ نفرت کی جو سینے میں بھڑک اٹھے گی

شہر میں جلتا ہوا گھر ہی دکھائی دے گا

دوستو طنز کے پتھر سے نوازو مجھ کو

زخم دو گے تو گُلِ تر ہی دکھائی دے گا

درد کو لاکھ بھی میزان کرم پر تولو

اپنے حصے میں برابر ہی دکھائی دے گا

عکس آنکھوں میں ہو جب منظرِ نادیدہ کا

دوستو شہرِ ستمگر ہی دکھائی دے گا

ہاتھ آئی ہو جسے پیار کی دولت اختر

وہ بہرحال تونگر ہی دکھائی دے گا

    

اختر عظیم آبادی

No comments:

Post a Comment