Wednesday, 14 October 2026

دنیادار کے در پر خدا سوالی ہے

 سِتمگری کی نئی اک طرح نکالی ہے

یہ آسمان پہ کس نے زمیں اُچھالی ہے

ہمارا اُن سے کوئی ربط تھا، نہ ہے کوئی

بنانے والوں نے تو بات ہی بنا لی ہے

وہ مہرباں ہوئے ہم پر تو باور آیا یہ

کہ جس کا نام قیامت ہے آنے والی ہے

یہ اس زمانے کا ہلکا سا اک تعارف ہے

کہ دُنیادار کے در پر خُدا سوالی ہے

عقاید آج ہیں پھر سے شکارِ بے دِینی

زمین بَیل نے سِینگوں پہ پھر اُٹھا لی ہے

بہایا خون غریبوں کا روز و شب اعزاز

امیرِ شہر کا کردار تو مثالی ہے


خالد اعزاز

No comments:

Post a Comment