Wednesday, 14 October 2026

تماشائی تماشا دیکھتا ہے

 یہ کپڑا تو بہت مہنگا پڑا ہے

بدن عریاں رہے تو کیا بُرا ہے

نمُو جیسے ہوئی ویسا نہیں ہے

بدلتے پیڑ کو بدلا گیا ہے

میں گِریہ کاٹ کر بویا گیا ہوں

سمندر میرے اندر یوں اُگا ہے

چلو چھاؤں میں بیٹھے تھک گیا ہوں

کہاں جائے گا رستہ کیا پتہ ہے

اُچھل سکتا ہوں لیکن اس زمیں پر

فلک پر کون سِیدھے سر کھڑا ہے

مجھے انسان سے بندر بنا کر

تماشائی، تماشا دیکھتا ہے


قمر ساجد

No comments:

Post a Comment