اس جہاں سے دل لگانا کوئی ہم سے سیکھ جائے
دل لگا کر رنج اٹھانا کوئی ہم سے سیکھ جائے
غم کی چوٹیں دل پہ کھانا کوئی ہم سے سیکھ جائے
ضبط سے جاں کو گُھلانا کوئی ہم سے سیکھ جائے
اف نہیں کرتے مبادا رازِ مُضمر فاش ہو
داغِ سینہ کو چُھپانا کوئی ہم سے سیکھ جائے
بے وفا ہے یہ زمانہ آزما کر دیکھ لو
گر نہ آئے آزمانا کوئی ہم سے سیکھ جائے
چھیڑ کر ناکامیوں کی داستانِ پُر الم
مُفت کا رونا رُلانا کوئی ہم سے سیکھ جائے
غیر کو بھی غرق بحرِ رنج و کلفت دیکھ کر
مثلِ ماہی تلملانا کوئی ہم سے سیکھ جائے
نقشِ غیریت مٹا کر حرفِ باطل کی طرح
اس کا نقشہ پھر جمانا کوئی ہم سے سیکھ جائے
سحر و افسوں کے تو ہم نامِ خدا قائل نہیں
شعر کا جادو چلانا کوئی ہم سے سیکھ جائے
انیسہ ہارون شروانیہ
No comments:
Post a Comment