بکتے ہیں ہمیں آپ خریدار ہمیں ہیں
یہ طرفہ تماشا سر بازار ہمیں ہیں
بلبل ہمیں زینت وہ گلزار ہمیں ہیں
ہر پھول میں ہر پھل میں نمودار ہمیں ہیں
دل ہم میں سدا رہتا ہے ہم رہتے ہیں دل میں
ہم آپ ہی دل دادہ ہیں دلدار ہمیں ہیں
جو دیکھتے ہیں شان خدا حسن صنم میں
وہ عشق کی پہنے ہوئے زنار ہمیں ہیں
معلوم نہیں جن کو کہ ہم کون ہیں کیا ہیں
وہ کھوئے ہوئے اپنے طلبگار ہمیں ہیں
ہم شرع میں احمد ہیں حقیقت میں احد ہیں
اٹھ جائے جو یہ پردہ تو اے یار ہمیں ہیں
ہم آپ ہی منصور ہیں ہم آپ انا الحق
ہم شرع کو سر دیتے ہیں سر دار ہمیں ہیں
لے لے کے مزے چاٹے ہیں ہونٹوں کو اپنے
اکبر تری شیرینئ گفتار ہمیں ہیں
اکبر وارثی میرٹھی
No comments:
Post a Comment