صفحات

▼

Thursday, 8 October 2026

بکتے ہیں ہمیں آپ خریدار ہمیں ہیں

 بکتے ہیں ہمیں آپ خریدار ہمیں ہیں 

یہ طرفہ تماشا سر بازار ہمیں ہیں 

بلبل ہمیں زینت وہ گلزار ہمیں ہیں 

ہر پھول میں ہر پھل میں نمودار ہمیں ہیں 

دل ہم میں سدا رہتا ہے ہم رہتے ہیں دل میں 

ہم آپ ہی دل دادہ ہیں دلدار ہمیں ہیں 

جو دیکھتے ہیں شان خدا حسن صنم میں 

وہ عشق کی پہنے ہوئے زنار ہمیں ہیں 

معلوم نہیں جن کو کہ ہم کون ہیں کیا ہیں 

وہ کھوئے ہوئے اپنے طلبگار ہمیں ہیں 

ہم شرع میں احمد ہیں حقیقت میں احد ہیں 

اٹھ جائے جو یہ پردہ تو اے یار ہمیں ہیں 

ہم آپ ہی منصور ہیں ہم آپ انا الحق 

ہم شرع کو سر دیتے ہیں سر دار ہمیں ہیں 

لے لے کے مزے چاٹے ہیں ہونٹوں کو اپنے 

اکبر تری شیرینئ گفتار ہمیں ہیں 


اکبر وارثی میرٹھی

No comments:

Post a Comment