صفحات

▼

Thursday, 8 October 2026

درد روتا ہے درد دے کے مجھے

 درد روتا ہے درد دے کے مجھے

سرخ بھی زرد ہو گیا ہے اب

تم مجھے درد دے نہیں سکتے

درد ہمدرد ہو گیا ہے اب

اب کسی سے نہیں کوئی الفت

دل یہ بے درد ہو گیا ہے اب

گرم جوشی نہیں زباں میں رہی

خون بھی سرد ہو گیا ہے اب


سیده فلزا تسکین

No comments:

Post a Comment