صفحات

▼

Friday, 9 October 2026

کیا تجھ کو کبھی آئی ہے قاضی کی وفا یاد

 انشاء ہی رہا یاد نہ منشاء ہی رہا یاد

مجھ کو تو ابھی کوئی نہیں تیرے سوا یاد

میں تو کبھی بُھولے سے بھی تجھ کو نہیں بُھولا

اور تُو نے تو بُھولے سے بھی مجھ کو نہ کیا یاد

دُنیا سے تھا نزدیک تو دُنیا نے نہ پوچھا

دُنیا سے ہوا دُور تو دُنیا نے کیا یاد

افسوس کہ ہر ایک کو وہ بُھول چکا تھا

اب خُوش ہے کہ ہر ایک نے ہے اس کو کیا یاد

وہ بُھول چکا ہے تِری ہر ایک جفا کو

کیا تجھ کو کبھی آئی ہے قاضی کی وفا یاد


منظور قاضی

No comments:

Post a Comment