روایت ہے
پہاڑوں نے کبھی ہجرت نہیں کی
یہ بارش، برف، طُوفاں سے نہیں ڈرتے
یہ خیمے چھوڑ کر اپنے نہیں جاتے
کبھی نامہرباں افلاک پانی بند کر دیں تو
نہ بارش کے خُدا کا بُت بنا کر پُوجتے ہیں اور
روایت ہے
پہاڑوں نے کبھی ہجرت نہیں کی
یہ بارش، برف، طُوفاں سے نہیں ڈرتے
یہ خیمے چھوڑ کر اپنے نہیں جاتے
کبھی نامہرباں افلاک پانی بند کر دیں تو
نہ بارش کے خُدا کا بُت بنا کر پُوجتے ہیں اور
خُود کو کبھی جو خُود سے مِلانا پڑا ہمیں
چہرے کے پاس آئینہ لانا پڑا ہمیں
تنہائیوں کا درد بھُلانے کے واسطے
خُود اپنے گھر میں شور مچانا پڑا ہمیں
مُدت کے بعد ہو گیا جب ان سے سامنا
ناکام حسرتوں کو جگانا پڑا ہمیں
دستِ ساقی میں فروزاں تھے سبُو رات گئے
اور ادھر شیخ تھا مصرُوف وضُو رات گئے
سو گیا تان کے چادر تِرے قدموں میں کوئی
سازشیں کرتے رہے مِل کے عدُو رات گئے
کون اس شہر میں ہمرازِ الم ہے میرا
کون آیا ہے لیے جام و سبُو رات گئے
بِگاڑ کر مِری مٹی کھنگالتے کیا ہو؟
سِتمگرو! مِری دُنیا اُجاڑتے کیا ہو؟
مِرے وجود سے جاں تو نکال لی تم نے
فرعونِ عصر! بتاؤ گے چاہتے کیا ہو؟
تمہارے چہروں کے تیور تو اور ہی کچھ ہیں
دلوں میں کیا ہے ہمیں یوں پچھاڑتے کیا ہو؟
ہاتھ ملتا ہے تو مل اب کے برس
پھُول کلیاں نہ مسل اب کے برس
برفزاروں میں نہ جل اب کے برس
التجا کرتا ہے دل اب کے برس
تُو اٹل ہے، وہ مصمّم ہے بہت
دیکھ لے اور کے بل اب کے برس
اربابِ کرم سے بدلا ہے دستورِ غمِ ایّام کہاں
اس دور جہانِ ہستی میں انسان کو ہے آرام کہاں
دُنیا ہے جفاؤں کی شیدا، دُنیا کو وفا سے کام کہاں
اے حُسنِ وفا کے دِیوانے! لیتا ہے وفا کا نام کہاں
رہبر نظر آتے ہیں رہزن تاریک دل اور ماتھے پہ شکن
پُوچھو نہ حقیقت کچھ اپنی غُربت میں ہوئی ہے شام کہاں
جل کر ان آنکھوں میں آنسو جب کاجل بن جاتے ہیں
دل سے اٹھ کر ریگ بگولے دل بادل بن جاتے ہیں
کوئی سچی بات زباں پر جب بھی کبھی آ جاتی ہے
وہ صحرا ہو یا گُلشن ہو سب مقتل بن جاتے ہیں
جب بھی ذہن میں جاگ اُٹھتی ہے ان ہونٹوں کی شیرینی
کیسے کیسے تلخ مسائل جان غزل بن جاتے ہیں
زمیں پہ کیسا ہے قحط الرّجال اُف اللہ
وفا کا اور جنوں کا زوال اُف اللہ
جو آدمی کا ہے اس وقت حال اُف اللہ
وفا کا اور جنوں کا زوال اُف اللہ
ترقی خوب ہوئی بے مثال اُف اللہ
مگر جو دیکھا ہے گاؤں کا حال اُف اللہ
کہاں سے آنا ہے ہر آدمی یہاں تنہا
رُلا کے ہم کو چلا جانا ہے کہاں تنہا
یزیدِ عصر نے گھیرا ہے یوں مجھے جیسے
مقابلے میں ہو اک تیرے بے کماں تنہا
لگے ہیں خیمے وہیں آج کاروانوں کے
گیا تھا شہر میں تھک کر جہاں جہاں تنہا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
دل نثار مصطفیٰﷺ، جاں پائمال مصطفیٰﷺ
یہ اویس مصطفیٰﷺ ہے وہ بلال مصطفیٰﷺ
دونوں عالم تھے مِرے حرف دُعا میں غرق و محو
میں خُدا سے کر رہا تھا جب سوال مصطفیٰﷺ
سب سمجھتے ہیں اسے شمعِ شبستانِ حِرا
نُور ہے کونین کا لیکن جمالِ مصطفیٰﷺ
شِکوے کی چُبھن مجھ کو سدا اچھی لگی ہے
یہ فرطِ محبت کی ادا اچھی لگی ہے
خالی ہے کہاں لُطف سے اب دل کا پِگھلنا
پُر درد زمانے کی فضا اچھی لگی ہے
لمحاتِ محبت سبھی یکساں نہیں ہوتے
اے جان وفا! تیری جفا اچھی لگی ہے
نہ ذِکرِ آشنا نے قصۂ بے گانہ رکھتے ہیں
حدیثِ یار رکھتے ہیں یہی افسانہ رکھتے ہیں
چمن میں سرو قد گر جلوۂ مستانہ رکھتے ہیں
برنگِ طوقِ قمری ہم خطِ پیمانہ رکھتے ہیں
نہ اُلجھو اس قدر بے وجہ سُلجھانے میں زُلفوں کے
دلِ صد چاک تو ہم بھی برنگِ شانہ رکھتے ہیں
غیر بھی بیدم ہیں نالوں سے بُتِ بے پِیر بھی
اک ہوائی تِیر ہے یہ آہِ بے تاثیر بھی
کوئی شے خالی نہیں نیرنگِ حُسنِ یار سے
گُل میں رنگ و بُو تو مہر و مہ میں ہے تنویر بھی
کہتے ہیں رکھتے نہیں کیوں مُوئے مِژگاں کا خیال
کیا تمہارے دل میں رہ سکتا نہیں اک تِیر بھی
عصمت کے بازار کو چھُو کے آتا ہوں
ڈر ڈر کے دِلدار کو چھو کے آتا ہوں
کارِ محبت، مکر و فریب سے نالاں ہے
میں تو سچّے پیار کو چھو کے آتا ہوں
پھولوں کی کوئی قید نہیں ہے باغوں میں
دِیوانہ ہوں، خار کو چھو کے آتا ہوں
یہ دست کاسہ بھی لرزاں ہے تیرگی میں کہیں
ہمیں تو رات ہی مِلتی ہے روشنی میں کہیں
فقیر چہرے جو بِکتے ہیں شہر والوں میں
کسی کو خواب نہ مِلتے ہیں زندگی میں کہیں
چراغ بام کے بُجھتے ہیں زخم کھا کھا کر
یہ رات بولتی ہے درد خامشی میں کہیں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
انؐ کی چمک سے چمکا چہرہ اصُول کا
آنکھوں کی روشنی بھی صدقہ رسولؐ کا
حسن صدائے سرور تیری تلاش میں
حبشی کو مِل گیا ہے لہجہ قبول کا
جبریلؑ کون ہے جو رفتار جان لے
سایا نہ پا سکا وہ قدموں کی دُھول کا
ہم نے دیکھا ہے بھرے شہر میں سایا اپنا
ایک سُورج ہے پسِ پشت پرایا اپنا
غمکدۂ اشکِ مُسلسل سے نہال شب ہے
زخم تازہ کو درِ یار بنایا اپنا
چاند سے پار کوئی رات بسیرا ڈالے
ہم سے پُوچھے ہے کوئی خُون بہایا اپنا
گُم ہے فضا چمن کی نظاروں کو کیا ہُوا
گُل ہیں اُداس اُداس بہاروں کو کیا ہوا
کیوں ان کی روشنی ہے شب غم سے دُور دُور
اے آسمان! تیرے ستاروں کو کیا ہوا
دیکھے تو کوئی ان کا تغافل کہ بعدِ مرگ
وہ پُوچھتے ہیں درد کے ماروں کو کیا ہوا
جہاں سراب نہیں تھی وہاں سراب مِلے
حقیقتوں کو ٹٹولا گیا تو خواب ملے
ہر ایک سمت سے آواز بازگشت آئی
اس آرزو میں پُکارا تھا کچھ جواب ملے
ہمیں بہار کے آثار کی توقع تھی
رُخِ چمن پہ نشاناتِ انقلاب ملے
سِتمگری کی نئی اک طرح نکالی ہے
یہ آسمان پہ کس نے زمیں اُچھالی ہے
ہمارا اُن سے کوئی ربط تھا، نہ ہے کوئی
بنانے والوں نے تو بات ہی بنا لی ہے
وہ مہرباں ہوئے ہم پر تو باور آیا یہ
کہ جس کا نام قیامت ہے آنے والی ہے
یہ کپڑا تو بہت مہنگا پڑا ہے
بدن عریاں رہے تو کیا بُرا ہے
نمُو جیسے ہوئی ویسا نہیں ہے
بدلتے پیڑ کو بدلا گیا ہے
میں گِریہ کاٹ کر بویا گیا ہوں
سمندر میرے اندر یوں اُگا ہے
آج قسمت آزمائی ہو گئی
کُوئے جاناں میں رسائی ہو گئی
وہ نہ مِلتے تو نہ تھا کوئی گِلہ
غم یہ ہے مِل کر جُدائی ہو گئی
آشنائی سے ہے جو ناآشنا
اس سے اپنی آشنائی ہو گئی
تِری باتوں میں آتا ہے مِرا دل کتنا سادہ ہے
غموں میں مسکراتا ہے مرا دل کتنا سادہ ہے
جفا کاروں کی دنیا میں وفا کی آس ہے اس کو
عجب سپنے سجاتا ہے مرا دل کتنا سادہ ہے
اسے کچھ بھی نہیں دکھتا سوائے تیرے دنیا میں
تمہی پر جاں لٹاتا ہے مرا دل کتنا سادہ ہے
ستم ظریف
گھنا جنگل ہے جس میں میں فقط تنہا نہیں ہوں
ہزاروں رفتگاں
جن کے نشانِ پا
کہیں مدغم، کہیں واضح
بلا مقصد پڑے ہیں
پڑے بھی اس لیے ہیں کہ نشانِ پا کی قسمت ہی یہی ہے
کیوں بلندی پا کے ہستی میں اتر جاتا ہوں میں
کس لیے احساس کی حد سے گزر جاتا ہوں میں
ڈوب جائے گی تو اپنے آنسوئوں میں سوچ لے
چھوڑ کے اے زندگی تجھ کو اگر جاتا ہوں میں
زخم بے انداز ہیں پھر بھی ٹھہرِ شہرِ طلب
آنے والی کل کی خاطر پھر سنور جاتا ہوں میں
شبِ فراق مِری جان اک عذاب میں ہے
تڑپ رہا ہے جگر دل بھی اضطراب میں ہے
ہزاروں طالبِ دیدار ٹُوٹے پڑتے ہیں
اگرچہ جلوۂ جاناں ابھی نقاب میں ہے
نگاہ مِلتے ہیں مستانہ کر دیا ساقی
بتائے کوئی یہ مستی کہاں شراب میں ہے
ظُلمت کو پردھان بنا کر دیکھ لیا
سُورج کو بے جان بنا کر دیکھ لیا
اب جو لنکا ہار گئے تو رونا کیا
بھیدی کو دربان بنا کر دیکھ لیا
خیر دُعائیں لب پر ہی دم توڑ گئیں
جذبوں کو بھگوان بنا کر دیکھ لیا
کب یہ مانگا تختِ شاہی دے، کوئی پوشاک دے
خاکساروں کو تُو بس اپنی گلی کی خاک دے
ہم زمیں زادے ہیں آخر، ہم کو یہ معلوم ہے
یُوں نہ دھوکا تُو ہمیں اے گردشِ افلاک دے
جو خُوشی پتھر کرے دل کو تو بہتر ہے یہی
اے خُدا! تُو اُس کے بدلے دیدۂ غمناک دے
تمہارے غم کو غم جاں بنا لیا میں نے
کہ جنگلوں کو گلوں سے سجا دیا میں نے
نہ جانے کتنی امیدیں لہو لہو کر کے
دل تباہ کو جینا سکھا دیا میں نے
سبب ہو کچھ بھی انہیں روٹھنے کی عادت ہے
یہ سوچنا ہی غلط ہے کہ کیا کیا میں نے
یُوں بھی ہوتا ہے
یُوں بھی ہوتا ہے کہ اکثر
زندگانی کے اُفق پر
بدلیاں غم کی یکایک
یُوں اُمڈ آتی ہیں جیسے
زندگی کی آخری یہ شام ہو
چھُوٹنے لگتی ہیں نبضیں
یہاں درخت تھے سایہ تھا کچھ دنوں پہلے
عجیب خواب سا دیکھا تھا کچھ دنوں پہلے
یہ کیا ہوا کہ اب اپنا بھی اعتبار نہیں
ہمیں تو سب کا بھروسا تھا کچھ دنوں پہلے
ہمارے خون رگ جاں کی لالہ کاری سے
جو آج باغ ہے صحرا تھا کچھ دنوں پہلے
آرام جو کرتے نہیں آرام سے پہلے
منزل پہ پہنچتے ہیں وہی شام سے پہلے
یہ ایک حقیقت ہے کہانی نہیں اے دوست
مشہور نہ تھا تُو بھی مِرے نام سے پہلے
دنیا جسے کہتے ہیں سمجھ میں نہیں آتا
یہ کیا تھی تِرے جلوہ گہِ عام سے پہلے
سبک ہوں اپنی نگاہوں میں عرض حال کے بعد
کہ آبرو نہیں رہتی کبھی سوال کے بعد
نہ پوچھو دل کو ہوئی ہیں اذیتیں کیا کیا
کبھی سوال سے پہلے کبھی سوال کے بعد
ضمیر کی وہ مسلسل ملامتیں توبہ
ملا ہے دل کو سکوں اشک انفعال کے بعد
آ اے دل خطائیں بخشوانے چلتے ہیں
آج روٹھے ہوئے یار کو منانے چلتے ہیں
ہو سکتا ہے فراموش کر دے وہ بے پرواہ
اسے وعدۂ فردا یاد دلانے چلتے ہیں
ایمان پختہ ہو یا خستہ، سزا ملے یا جزا
دہلیزِ یار پہ جبیں جھکانے چلتے ہیں
کُچھ دکھائے ہم کو خُدا دیکھتے چلیں
کیوں لوگ ہیں خُدا سے خفا دیکھتے چلیں
ٹکرا کے جس سے لوٹ گئی ہر صدا وہ در
خُوشبو کی دستکوں سے کُھلا دیکھتے چلیں
دُنیا ہمارے ساتھ تھی دورِ بہار میں
سایہ بھی اب ہے ہم سے جُدا دیکھتے چلیں
نہ تھا فضاؤں کا قیدی نہ وہ مکان میں تھا
پرندہ فکر کا اک خاص ہی اُڑان میں تھا
تمام شہر کے ہاتھوں میں تھے دھنش لیکن
جو ایک تیر تھا وہ میری ہی کمان میں تھا
جسے پڑوسی کے ہاتھوں فروخت کر ڈالا
ہمارے پُرکھوں کا ورثہ اسی زبان میں تھا
رُخ سے پردا جو اُٹھا رکھا ہے توبہ توبہ
تُو نے ہنگامہ مچا رکھا ہے توبہ توبہ
ایک تو آنکھیں تِری یار ہیں خنجر جیسی
اس پہ کاجل بھی لگا رکھا ہے توبہ توبہ
شیخ جی! آپ کو آخر یہ ہوا کیا ہے کہو
جام ہاتھوں میں اٹھا رکھا ہے توبہ توبہ
ساقیا! یہ درد گہرا ہے کوئی امداد کر
ورنہ مجھ کو تیشہ دے کر تُو یہیں فرہاد کر
برگزیدہ ایک بسمل کی ہزاروں منزلیں
رقص کرتی ہیں کسی کے جملۂ ناشاد پر
قیس کو خانہ بدوش اور میر کو وحشت زدہ
اور مجھ کو عاشقوں کے درمیاں ایجاد کر
واقف ہیں میرے نالۂ دل کے اثر سے آپ
بے چین ہیں جو صدمۂ درد جگر سے آپ
یہ بھی خبر ہے دل پہ گزرتی ہے میرے کیا
جا تو رہے ہیں پھیرے ہوئے منہ ادھر سے آپ
آرام دن کو اور نہ راتوں کو چین ہے
واقف نہیں ہیں کیا مِری شام و سحر سے آپ
ڈھلتی شام
طویل مُسافت
وحشت زدہ ناگ
تاک میں بیٹھے گِدھ
اور وہ اجنبی مُسافر
شاید کہ آیا تھا
کوئی بتلائے حال ساقی کا
آ رہا ہے خیال ساقی کا
کوئی ثانی نہیں مِلا اب تک
یار اس بے مثال ساقی کا
ہائے کیا خُوب تھا وہ منظر بھی
میرے ہونٹوں پہ گال ساقی کا
ازدحامِ آئینہ چہرہ تراش
چھوڑ اس کو دوسرا چہرہ تراش
میں کہاں اُمید کی گُل کاریاں
یاس کا منظر ہُوا چہرہ تراش
ڈھونڈ اپنے جسم کی تیزابیت
رُوح کی شیریں فضا چہرہ تراش
روز میں ٹوٹ پھوٹ جاتا ہوں
روز پھر خود کو میں بناتا ہوں
روز میں خود سے روٹھ جاتا ہوں
اور پھر خود کو میں مناتا ہوں
روز اک کام کرنا ہوتا ہے
روز وہ کام بھول جاتا ہوں
زلف کے سنورنے میں دیر کتنی لگتی ہے
آدمی کے مرنے میں دیر کتنی لگتی ہے
آنکھ سے بھلا دل کا فاصلہ ہی کتنا ہے
سیڑھیاں اترنے میں دیر کتنی لگتی ہے
پتھروں پہ چلتا ہوں کانچ کا بدن لے کر
کرچیاں بکھرنے میں دیر کتنی لگتی ہے
یہ شیر ہم پہ جھپٹتا ہے، کھال نوچتا ہے
ہمارے جسم کو تیرا خیال نوچتا ہے
کبھی سکون کی صُورت بھی خواب لگتی ہے
کہ نیند آتے ہی کوئی ملال نوچتا ہے
یہ کس مقام پہ لے آئی زندگی ہم کو
ہمارا ظرف ہمارے سوال نوچتا ہے
مان لیں گے وہ ہماری التجا لگتا نہیں
معاف کر دیں گے ہماری ہر خطا لگتا نہیں
کہہ سکیں سچ بات کو وہ ہر بشر کے سامنے
آج کل لوگوں میں اتنا حوصلہ لگتا نہیں
صبح ہوتے ہی بدل جاتے ہیں ان کے فیصلے
دیرپا ہو گا کوئی بھی فیصلہ لگتا نہیں
لوگ پتھر کے ہیں پتھر ہی دکھائی دے گا
ہر طرف زخموں کا منظر ہی دکھائی دے گا
تشنگی آج کنارے سے گلے ملتی ہے
خواب میں اب تو سمندر ہی دکھائی دے گا
آگ نفرت کی جو سینے میں بھڑک اٹھے گی
شہر میں جلتا ہوا گھر ہی دکھائی دے گا
نظر بھر کی خطا میں عشق کر جانے کی جرأت ہے
تمہیں بس دیکھنا تھا، اب سنور جانے کی جرأت ہے
نہیں ہے فُرصتِ غم پھر تمہیں اپنا بنانے کی
مگر اب خامشی میں گُھٹ کے مر جانے کی جرأت ہے
میں اُٹھ کر آ گیا تھا جوگ میں یونہی تمہارے ہاں
میں ٹِلہ جوگیاں کا ہوں سو گھر جانے کی جرأت ہے
آہ بے تاثیر ہے نالہ رسا کوئی نہیں
درد وہ مجھ کو مِلا جس کی دوا کوئی نہیں
دیکھتا ہوں راہ میں مُڑ مُڑ کے ہر چہرے کو میں
ہمسفر کتنے ہیں لیکن ہمنوا کوئی نہیں
اس سے بڑھ کر اور کیا ہو گا عذابِ زندگی
آنکھ سب رکھتے ہیں لیکن دیکھتا کوئی نہیں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
جس کو دیکھو ہے خریدار رسولِ عربیﷺ
مصر سے بڑھ کے ہے بازار رسول عربی
جب خدا خود ہے خریدارِ رسول عربیﷺ
کیوں نہ ہو گرمئی بازارِ رسولِ عربیﷺ
طُور پر دیکھ کے غش جس کو ہوئے تھے موسیٰ
تھا وہ اک پرتوِ رُخسار رسول عربیﷺ
اس جہاں سے دل لگانا کوئی ہم سے سیکھ جائے
دل لگا کر رنج اٹھانا کوئی ہم سے سیکھ جائے
غم کی چوٹیں دل پہ کھانا کوئی ہم سے سیکھ جائے
ضبط سے جاں کو گُھلانا کوئی ہم سے سیکھ جائے
اف نہیں کرتے مبادا رازِ مُضمر فاش ہو
داغِ سینہ کو چُھپانا کوئی ہم سے سیکھ جائے
انشاء ہی رہا یاد نہ منشاء ہی رہا یاد
مجھ کو تو ابھی کوئی نہیں تیرے سوا یاد
میں تو کبھی بُھولے سے بھی تجھ کو نہیں بُھولا
اور تُو نے تو بُھولے سے بھی مجھ کو نہ کیا یاد
دُنیا سے تھا نزدیک تو دُنیا نے نہ پوچھا
دُنیا سے ہوا دُور تو دُنیا نے کیا یاد
ہجوم غم سے گھبراتے نہیں ہم
محبت کر کے پچھتاتے نہیں ہم
بہت بے چین رہتے ہیں وہ اس دن
کسی دن جب نظر آتے نہیں ہم
گُلِ عارض پہ کوئی بات تو ہے
مگس کی طرح منڈلاتے نہیں ہم
ساعت غم میں بھی فریاد نہیں کر پایا
ایک مدت سے تجھے یاد نہیں کر پایا
دیکھ کر وار پہ خاموش مِری آنکھوں کو
کرنے آیا تھا جو جلاد نہیں کر پایا
میری غزلوں کو کھنگالا بھی گیا تھا لیکن
فیصلہ کوئی بھی نقاد نہیں کر پایا
اداس آنکھ میں زینت دکھائی دیتی ہے
کسی کے ہجر کی رنگت دکھائی دیتی ہے
اُسے صدا نہیں دیتا کہ لطفِ حاصل سے
جمالِ یار میں خفت دکھائی دیتی ہے
وہ اپنے عیب بھی آئینے پر ہی دھر آیا
کمال اس شخص میں جرأت دکھائی دیتی ہے
حسن کو سمجھتا ہے عشق ہم زباں اپنا
ہے حقیقت ایسی ہی یا ہے یہ گماں اپنا
فاش ہم کریں کیونکر راز مدعا یابی
گم حصول مقصد میں حاصل بیاں اپنا
کارساز ہے کتنی دید و باز دید اپنی
مل گیا صلہ ہم کو بعد امتحاں اپنا
حسرت دل کو مار کر دیکھا
بوجھ سارا اتار کر دیکھا
وقت ممکن کہاں گزارے تو
جیسے میں نے گزار کر دیکھا
کوئی میری مدد کو آیا نہیں
میں نے سب کو پکار کر دیکھا
ماضی کے روشن کردار کہاں سے لاؤں
سر ہی نہیں قابل دستار کہاں سے لاؤں
اپنی زمیں کا تھوڑا ٹکڑا تمہیں بھی دے دیں
مہاجرو! ایسے انصار کہاں سے لاؤں
زنگ آلود عجائب گھر میں رکھی ہو گی
عالمگیر کی وہ تلوار کہاں سے لاؤں
وہ حرف حرف مکمل کتاب کر دے گا
ورق ورق کو محبت کا باب کر دے گا
اُجالے کے لیے اس کو صدا لگاؤ اب
یہ کام چٹکیوں میں آفتاب کر دے گا
وہ جب بھی دیکھے گا مستی بھری نظر سے مجھے
مرے وجود کو یکسر شراب کر دے گا
لب تشنۂ تمنا کہیں جام تک نہ پہنچے
یہ سرورِ ذوقِ پیہم بھی تمام تک نہ پہنچے
بجلی گرانے والے! یہ بات یاد رکھنا
شعلہ چمن سے اٹھ کر تِرے بام تک نہ پہنچے
تیشہ زنی اکارت،۔ بے سُود سر فروشی
وہ جُوئے شِیر بھی کیا جو عوام تک نہ پہنچے
بکتے ہیں ہمیں آپ خریدار ہمیں ہیں
یہ طرفہ تماشا سر بازار ہمیں ہیں
بلبل ہمیں زینت وہ گلزار ہمیں ہیں
ہر پھول میں ہر پھل میں نمودار ہمیں ہیں
دل ہم میں سدا رہتا ہے ہم رہتے ہیں دل میں
ہم آپ ہی دل دادہ ہیں دلدار ہمیں ہیں
درد روتا ہے درد دے کے مجھے
سرخ بھی زرد ہو گیا ہے اب
تم مجھے درد دے نہیں سکتے
درد ہمدرد ہو گیا ہے اب
اب کسی سے نہیں کوئی الفت
دل یہ بے درد ہو گیا ہے اب
ماہیا/ثلاثی/سہ حرفی/*ہائیکو/تروینی/ترائلے
سارے رستے تو ہو گئے مسدود
کاش وہ خود بخود چلے آئیں
کسی صورت کسی بہانے سے
اکرم کلیم
ہجرتوں کے سفر
مگر ہم دربدر لوگوں کی بھی اپنی کہانی ہے
پلٹ کر کس طرح جائیں
تذبذب کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوبے رہتے ہیں
یہاں ٹھہریں وہاں جائیں
کدھر ہم کوچ کر جائیں
جمیل احسن
زعفرانی کلام
تیری میری ذات کا میل
کِیکر پر انگُور کی بیل
جاہل بن بیٹے سُلطان
عالم فاضل بیچیں تیل
دو ہی انت سیاست کے
کُرسی یا اڈیالہ جیل
جواب چیخ اٹھے ہیں سوال چیخ اٹھے
کہیں پہ لفظ کہیں پر خیال چیخ اٹھے
دکھا یہ خواب کہ کل رات مر گیا ہوں میں
گناہ جتنے تھے سب حسب حال چیخ اٹھے
کہیں امام کہیں مقتدی ملے جاہل
اذانیں سن کے ہماری بلال چیخ اٹھے
کوئی قصہ نیا سنا کر دیکھ
حرف سے حرف کو ملا کر دیکھ
جو بھی چادر بچھا کے بیٹھا ہے
اس سے نظریں سبھی ملا کر دیکھ
حیلہ گر ہے کسی ندامت میں
اس کو رستہ کوئی دکھا کر دیکھ
بابِ حضورﷺ میں
اے ہواؤ، دریاؤ، ابر پارو
جب تک وہاں سے گزرنا
کچھ ہوا
اور پانی
اپنے ساتھ لے آنا
کہ ہم بہت پیاسے ہیں
کم نصیبی
مہربان گاؤں کے
لوگ اور گھر سارے
جھیل، راستے، جھرنے
سائباں شجر سارے
منتظر ہی رہتے ہیں
وہ اپنی ذات میں گم تھا نڈھال ایسا تھا
مزاج پوچھنے والے کا حال ایسا تھا
کوئی چراغ سا چہرہ ادھر نہیں آیا
میں نا مراد تھا یارو کہ سال ایسا تھا
دبا دیا تھا کسی ہاتھ کو اندھیرے میں
وہ جان جائے گا میرا خیال ایسا تھا
اس دل نے رلایا ہے اک بار مجھے پھر سے
اس دل نے مجھے پھر سے وہ یاد دلائی ہے
یہ کیسی جدائی ہے جو ختم نہیں ہوتی
یہ کیسی اداسی ہے اس دل پہ جو چھائی ہے
میں نے ہی محبت کا اظہار کیا پہلے
میں نے ہی اسے جا کر یہ بات بتائی ہے
یہ کس مقام پہ آ کر ٹھہر گئی دنیا
ہمیں تو خواب سے محروم کر گئی دنیا
غریب پر تو ستم ڈھا رہی تھی رہ رہ کر
امیر سامنے آیا تو ڈر گئی دنیا
کہا تھا مجھ کو مصیبت میں کام آئے گی
ستم ہے قول سے اپنے مُکر گئی دنیا
بوجھل ہوں سر پہ بوجھ اٹھایا ہوا تو ہے
مشکل میں ہوں خدا کو بتایا ہوا تو ہے
اور اب تو یار دوست بھی کرنے لگے سوال
کچھ دن سے ایک رنگ سا آیا ہوا تو ہے
اس نے بھی ایک بیل اگائی ہے اس طرف
ہم نے بھی ایک پیڑ لگایا ہوا تو ہے
کوفہ مزاج شہر میں رونے کا فائدہ؟
بس دیکھتے ہیں دور سے ماتم تماش بین
درویش کی دھمال پہ فتوے لگائیں گے
مرشد کے التفات سے برہم تماش بین
گھنگرو کی خستگی پہ سبھی معترض تو ہیں
ٹخنوں کے زخم دیکھتے ہیں کم تماش بین
گئے ہیں دیس کو ہم اپنے چھوڑ کر بھی نہیں
مہاجرت کے لیے شرط اب سفر بھی نہیں
اسی جہان میں رہتے ہیں خوبرو ایسے
یقین مجھ کو ہوا اس کو دیکھ کر بھی نہیں
مرے وجود میں گھل مل کے کر گیا تنہا
وہ ایک شخص جو آیا کبھی نظر بھی نہیں
فرصتِ مرہمی نہ تھی، زخم چِھلا، چِھلا رہا
صبح سے شام تک وہی کام کا سِلسلہ رہا
ذہن میں وحشتیں نہ ہوں، دل تو ہو پر زِ درد و غم
مانا کہ خام تھا جنوں، شوق بھی بے صِلہ رہا؟
جوشِ نمو بھی ہے بجا، لمحے بھی ہیں طرب فزا
خدشہ سا دل میں ہے کہ وقت، سَم تو نہیں پلا رہا
وہ دُشمن ہو گیا اچھا ہُوا ہے
یہ لمحہ دل پہ اب لِکھا ہوا ہے
مگر سچ ہے کہ وہ بہکا ہوا ہے
مگر اے دل وہ کیوں بہکا ہوا ہے
بلائیں لے رہے تھے لوگ سارے
مگر بچہ ہے پھر سہما ہوا ہے
سوختہ کشتی کا ملبہ میں مرا دل اور شام
غمزدہ اترے ہوئے دریا کا ساحل اور شام
رات کے اک پیشرس تارے کی دھڑکن تیز تیز
آنکھ میں سہمے ہوئے خوابوں کی جھلمل اور شام
خستگی سے چُور پاؤں حسرتِ واماندگی
کہر میں ڈُوبی ہوئی موہوم منزل اور شام
ہماری زیست میں کچھ ایسے مہ و شاں گزرے
زمیں پہ جیسے ستاروں کے کارواں گزرے
متاع زیست سمجھ کر اسے سمیٹ لیا
تِرے لیے جو ستم ہائے آسماں گزرے
خود اپنے حال پہ آنکھوں میں آ گئے آنسو
تِرے خیال میں کیا کیا نہیں گُماں گزرے
آوازوں کے بلوے سے جب ننگے سر خاموشی گزری
خاک اڑاتی ساتھ میں زندہ غیرت کی اک لاش بھی گزری
کوچہ بہ کوچہ قریہ بہ قریہ پشتِ خمیدہ سے جکڑی
طوق و سلاسل کے ہمراہ زنجیر بھی شور مچاتی گزری
لاکھوں تماشائی آنکھوں کے بیچ جھکا کر اپنا سر
بے مقنع تصویر حیا کی آنکھ سے خون بہاتی گزری
گردن سے جدا کر دو، لو حاضر ہے مِرا سر
میں کہہ نہیں سکتا کبھی قطرے کو سمندر
ہے جام سخن اصل میں آگاہی کا ساغر
کہتے ہیں جسے شاعری حکمت ہے سراسر
زردار! اگر تجھ کو خوشی چاہیے سچی
محتاج کی، مفلس کی، غریبوں کی مدد کر
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
تِری اِک چشمِ رحمت سے تِرا بیمار بہتر ہے
ہزاروں طِبی نسخوں سے نگاہِ یار بہتر ہے
جگہ مِل جائے گر پاپوش گاهِ یار میں مجھ کو
خوشا یہ مسندِ طاؤس سے صد بار بہتر ہے
شہنشاہی سے بڑھ کر ہے تِری پاپوش برداری
سکندر سے تِرا اِک خادمِ دربار بہتر ہے
جوانی کتنی چھوٹی ہے
کہ میں سادہ سی لڑکی تھی
نہ بنتی تھی سنورتی تھی
مِرا بس دوش اتنا ہے
کہ میں خوابوں پہ مرتی تھی
نہ اشکوں سے مراسم تھے
میں ہر حالت پہ ہسنتی تھی
لاکھ میں نے تجھے چھپانا ہے
تیری خوشبو نے پھیل جانا ہے
ہم کو سچ بولنے کی عادت ہے
ہم نے نقصان تو اٹھانا ہے
ہم سلامت رہیں گے باہر سے
ہم نے اندر سے ٹوٹ جانا ہے
تمام عمر ہی کھاتا رہا جو مال غلط
بتاؤ کیسے نہ اٹھے گی اس کی آل غلط
کچھ ایسے لوگ بھی شامل ہیں بزمِ خوباں میں
غلط ہے ماضی کسی کا کسی کا حال غلط
تمہارے حسن کو تشبیہ دوں تو کس شے سے
تمہارے حسن نے کر دی ہے ہر مثال غلط
جہاں میں رہتا ہوں
وہاں استنبول کے پانیوں کو چوم کر ہوائیں آتی ہیں
یونس ایمرے کی داستان محبت میں
خالدہ ادیب خانم کے رتجگوں میں گونجتی
سنگدل قدموں کی آہٹیں، اداس صفحوں کی سرسراہٹیں سناتی ہیں
گھنے جنگلوں میں بارش کی بوندیں اذیت میں سسکتی ہیں
تمہاری بزم میں محروم جام ہم بھی تھے
فقط رقیب نہیں تشنہ کام ہم بھی تھے
فقیہ شہر نے گمراہ کر دیا ورنہ
صفت شناس حلال و حرام ہم بھی تھے
عمامہ بند و قبا پوشگاں کا ذکر ہی کیا
ترے حضور میں با احترام ہم بھی تھے
رات بنجر ہوئی
کوئی اکھوا نہیں پھُوٹتا
رات کی زرد ٹہنی کی کمزور بانہیں کسی پھُول کی آرزو سے تہی
رات بنجر ہوئی کوکھ جیسی ہوئی، یعنی بے آرزو
کوئی ہنگامہ خیزی نہ سیلِ بلا خیز کا سامنا
ایک تیرہ شبی جس میں ذوقِ نمو کا گُزر تک نہیں
جہاں تم نے چھوڑا ہے
جاؤ
دل پہ بندش لگا سکتا ہے کون؟
جاؤ اسی کی طرف جاؤ
جس کے خوابوں آنکھیں مخمور ہیں تمہاری
جاؤ اسی کی طرف جاؤ
میں تو یہیں ہوں
کب ہوئی ہے سحر ہم نہیں جانتے
رات ہے یا سحر ہم نہیں جانتے
کیسے ہو گی بسر ہم نہیں جانتے
آپ ہیں جان اگر تو جگر ہم بھی ہیں
فرق جان و جگر ہم نہیں جانتے
غم دل کی دوا کوئی نہیں ہے
ہمیں ان سے گلہ کوئی نہیں ہے
وفا کے راستوں میں کھو گیا دل
کہاں ڈھونڈوں پتا کوئی نہیں ہے
جھکا دوں گا میں سر قدموں پہ جس کے
وہ تم ہو دوسرا کوئی نہیں ہے
اک پھول جیسی شکل نظر آ گئی کوئی
خوشبو کے ساتھ ساتھ چلی تازگی کوئی
اس شہرِ بے چراغ کی وحشت پہ کیا کہوں
اپنا بھی لگ رہا ہے مجھے اجنبی کوئی
پتھر مزاج مجھ کو دکھانے سے پیشتر
ثابت تو کر، کہ تو بھی نہیں سامری کوئی