یہ دست کاسہ بھی لرزاں ہے تیرگی میں کہیں
ہمیں تو رات ہی مِلتی ہے روشنی میں کہیں
فقیر چہرے جو بِکتے ہیں شہر والوں میں
کسی کو خواب نہ مِلتے ہیں زندگی میں کہیں
چراغ بام کے بُجھتے ہیں زخم کھا کھا کر
یہ رات بولتی ہے درد خامشی میں کہیں
حکایتیں تو سُنا دی گئی ہیں محلوں کو
مگر ہے خُون کا دریا گلی گلی میں کہیں
یہ تخت و تاج کے وارث تو کھیلتے ہیں بہم
مگر ہے خلق کا خُوں آج سرسری میں کہیں
سراج! شہر کے دروازے بند ہیں ہر سُو
خِزاں بھی جاگتی رہتی ہے بے بسی میں کہیں
سراج الحق
No comments:
Post a Comment